دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 81
تن چه فرسود داستان آمد دل پر از دست رفت جان آمد پروازه جب جسم کمزور ہو گیا تو محبوب آگیا۔ جب دل ہاتھ سے نکل گیا تو جان بینی محبوب بل گیا عشق دلبر بروئے شمال بارید روئے شمال بارید ابر رحمت ہوئے شاں بارید دلیر کی محبت ان کے چھکے پر ظاہر ہوگئی اور رحمت کا ابر ان کے گلی کوچوں میں برسا ست این قوم پاک را جا ہے کہ ندارد جہاں بدو را ہے اس پاک قوم کی وہ عزت ہے کہ ساری دنیا بھی اس تک نہیں پہنچ سکتی دست بر دعا چو بر دارند مورد فیض ہائے دا داراند داوا جب وہ موما کے لیے ہاتھ اٹھاتے ہیں تو نہائی فیوض کے مورد بن جاتے ہیں کشف رازی گر از خدا خواهند هم از حضرت شهنشاه اند اگر صدا سے کسی راز کا کشف چاہتے ہیں۔ تو حضور خداوندی سے امام کیے جاتے ہیں۔ کس شان کس پسر وقت شان ندارد ماه که نهال اند در قباب الله کوئی ان کے حال پر واقفیت نہیں پاتا۔ کیونکہ وہ اللہ کے گنبدوں میں مخفی ہیں گر نماید خدا کے ناتال پر کائیش درند سلطاناں اگر خدا تعالی ان میں سے کسی کو ظاہر کر رہے تو اس کے جلو میں یاد شاہ دوڑتے ہوئے چپلیں این همه عاشقان آن یکتا نور یابند از کلام خدا یابند خدا ی سب خدائے لاشریک کے عاشق خدا کے کلام سے ہی نور حاصل کرتے ہیں و چه هستند از جہاں پنہاں بازگہ گر ہے شنر جہاں اگا ہوا ، دونیا سے پوشیدہ ہیں۔ تاہم کبھی کبھی ظاہر بھی ہو جاتے ہیں