دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 68 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 68

خدائے ہے۔ نیارید یاد از حتی بے چگوں پسند اوفتادست دیتا ہے دوں تم بیگوں کو یاد نہیں کرتے اور یہ ذلیل دنیا تم کو پسند آگئی۔ یہ دنیا کے دل بہ بند و چرا که ناگاه باید شدن زین سرا شه کوئی ہیں ۔ نیا سے کیوں دل لگائے جبکہ اچانک ایک دن اس سرائے سے کوچ کرنا ہے ر انجام این خانه رو بست و درد به پیش نماینده مردان مرد اس گھر کا انجام رسی : ریح و درد ہے ، کرد لوگ اس کے داؤ میں نہیں آتے این گل میالائے دل چوں نے کہ عہد بقالیش نماند ہے اس کیچڑ سے کھیلوں کی طرح دل کو آلودہ نہ کر کہ اس کے ٹھہرنے کا زمانہ دیر تک نہیں رہتا زمان مکافات آید فراز تو بر پیش دنیا بدیں سال منانه جور کا دن آ رہا ہے۔ پہل تو مونیا کی زندگی پر نانہ ذاکر فریبی مخور از زر و سیم و مال کہ ہر بال را آهمه آمده زمان ہونے ، چاندی اور مال سے دھک کا منہ کھا۔ کیونکہ آخر ہر مال پر زوال آجاتا ہے۔ در آورده ایم و نه با خود بریم تنی آمدیم و تهی بگذریم د ہم کچھ ساتھ لائے اور نہ ساتھ لے جائیں گے خالی ہاتھ آتے تھے اور خالی ہاتھ چلے جائیں گے الاتا نہ تابی را روئے دوست جانے نیزو بیک ہوئے دوست خروار : دوست کی طرف سے منہ نہ موڑہ سارا جہان دوست کے ایک بال کی برابری نہیں کر سکتا خدائیکہ جاں پر به واد قد نیا بی ریش جنہ پئے مصطفے وہ تھا میں کی راہ میں ہماری جان قربان ہے اس کا راستہ تھے مصطفے کی پیروی کے بغیر نہیں مل سکتی vh