دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 5
شدید اصرار ہوتا رہا۔ سب سے زیادہ ٹریپ اس کی اشاعت ثانی کی حضرت یہاں بشیر احمد لی اللہ عنہ کو تھی۔ انہوں نے مجھے یہ بھی لکھا کہ گر مالی پریشانی راہ میں حائل ہے تو چار سو روپے سے میں تمہاری مر کر سکتا ہوں گرمی شیخ بشیر احمد صاحب بیج ہائی کورٹ لاہور نے مجھ سے فرمایا تم کام شروع کرو میں سری کتاب ملکوں پر اپنے خراج سے پچھوا دوں گا اشکالا ال نے مجھے کہا کہ اگر نہیں ہوتے تو چھوا لیتے ہیں کہ کہ ایک ہی ہے اور برا ہے تقاضے کے خلط آرہے ہیں ایک مقامی جاعت نے تو حضرت خلیفہ امن الثالث و باقاعدہ خواست بھی بھیج دی کہ ہمیں اس کی دوبارہ اشاعت کی اجازت دی جائے مگر بار خوات سے ان کو یہی جواب طلا کہ اسماعیل میں نے پہلی مرتبہ یہ کتاب شائع کی تھی۔ دوبارہ بھی رہی شائع کرے گا۔ اس پر میں نے اپنی انتہائی بے باگی کے باوجود اس کی دوبارہ اشاعت کا ریڈ کر پیا تم پہلی اشاعت کے وقت پاس تھی نہ دوسری اشاعت کے وقت جگر میں نے توکل علی اله کام شروع کر دیا۔ اب سب سے پہلا مرحلہ یہ تھا کہ بع اول میں کتابت کی جو لیلیاں گئی تھیں ان کو درست کیا جائے تا کہ کتاب صحیح چھیے۔ اس ضمن میں مولوی عطاء الرحمن صاحب مرحوم تو در نست گراز کا لج بارہ نے اپنی خدمات پیش کیں ۔ اور حقیقت ہے کہ بہت ہی محنت کے ساتھ انہوں نے ساری کتاب کو دیکھا۔ پھر میں نے بزرگ محترم حضرت حافظ سید احمد صاحب شام جانوری کی خدمت میں اس کے متعلق عرض کیا۔ آپ نے