دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 66 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 66

در حقیقت مردمی مستی کر ان کو ہمہ از روئے عورت مرد مرند اہ از انقد اصل بات یہ ہے کہ حقیقت شناس لوگ کم ہیں۔اگر جوشکل کے لحاظ سے سب آدمی ہی ہیں ہوش کن اے در چھے افتاده فقل دوین از دست خود در ماده اسے وہ جو کنوئیں میں پڑا ہوا ہے اور عقل اور دین دونوں کھو بیٹھا ہے۔خبردار ہو غیر محدود سے محدود سے جو کا یہ نور محض از دو دے مجھو کا یہ از خیر محدود (خدا) کو محدود و رفت کے ذریعتی لاش نہ کر اور علی نور کا کام یہیں سے نہ لے آنچه باید نشست با مجو و نیاز تو مجو با کبرد خود بینی و ناز جربات کہ مجرد نیاز کے ساتھ ڈھونڈ نی چاہیے اسے تکبر نود جینی اور فخر کے ساتھ لا سوٹ نہ ده چه خوب است این محصول سردی یادگاریه مولوی در مولوی در نشنوی داد و اسلوک کا یہ اصول کیسا عمدہ ہے جو شنوی میں مولوی رومی کی یاد گار ہے دیر کی قند شکست است و نیانه نزیر کی بگذار و با گرانی بساند عقلمندی کمزوری اور عاجزی کی ضد ہے تو عقلمندی کو چھوڑ اور ماجوری اختیا نہ کر تدا که طفل خورد را با در نهار دست و پا باشند نهاده در کتانه میں طرح چھوٹے بچے کو ماں دن بھر اپنی گود میں لیے پھرتی ہے دینا امین احمدیہ حصہ سوم ما شبه صفحه ۱۷۳ تا ۱۳۹ مطبوعه ۱۸۸۲ بروم امر اک اک پیچون در دمام عریاں را کے کو بغیر ماں کے پانی ہوتی رہیں را تدا کار پاک کلام یونان کے سو جام دیتا ہے جو اس شراب سے بے خبر ہے وہ کہاں ریان کا مر جاتا ہے