دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 61 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 61

14 از پنے دُنیا بریدن از خدا بس نہیں باشند نشان اشتیا دھا کے لیے خدا سے تعلق توڑنا ۔ یہی پھتوں کی علامت ہے یول شوه بخشایش می بر کسے دل نے ماند و نیایش بسے | جنب خدا کی کسی پر مہربانی ہوتی ہے ۔ تو اُس کا دل دنیا سے اُکھڑ جاتا ہے ہوش کو کیں جا گر جائے تناست با خدا نے باش بون آخر خداست خبردار ہو کہ یہ دنیا تو سرائے فانی ہے۔ با خدا بن ہما کیا ہا کیونکہ آخر کو خدا سے ہی معاملہ پڑیگا بر قتل گریدست خود خوری این جیهان دانم که تو دانشوری اگر تو اپنے ہاتھ سے ہی زہر قاتل کھائے تو میں کیونکر مجھوں کہ تو عقلمند ہے رتقال اس گروہے ہیں کہ ان خود فانی اندر جان فشان بار گفته به بانی احمد ان لوگوں کو دیکھ جو فانی ہیں ۔ اور خدا کے کلام پر جان چھڑکتے ہیں تاریخ افتاده ز نام روزه و جاه اول ترکت و از فرق افتاده کلاه افتاده و جاه اول بوت اور وجاہت سے فارغ ہو گئے۔ دل ہاتھ سے جاتا رہا اور ٹوپی سر سے گرگئی نام را عات دور تراز از خود بر یا ر آمیخته آید و از بهر روئے ریختہ توی سے دور ہو کر یار سے واصل ہو گئے۔ اور اس حسین چہرہ کی خاطرموت و آبرو کی پھانہ کی دیدن شنا و بدن شال می دهد یا از خدا صدق در زال در جناب کبریا یاد خدا ان کو دیکھنے سے خدا یاد آتا ہے ۔ کیونکہ وہ خدا کے کیریا کی جناب میں بہت تیارا نہیں تو نہ استکبار سر بر آسمان از ده بیرون از راه بندگان تیرا تو ستر کبر سے آسمان تک پہنچا ہے اور بندوں کے راستہ کو تونے چھوڑ دیا ہے