دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 377
تیریش کے خطا نہ کر دست از نا کب او اماں چہ ہوئی اس کا تیر کبھی خطا نہیں گیا جس کے تیر سے کیا رمان ڈھونڈھتا ابر کانچ فلک ترا بخوانند از خار و خس آشیاں چہ جوئی جھے رشتے کسان کی اور کا ر ہے ہیں پھر تو سانس پھر اس کا گھونسلہ کیوں سکواش کرتا ہے۔فرخ در یار را فراگیر پیراین این و آن چه جوئی ے فراخ یاد کی چوکھٹ کو اختیار کر۔زید و کمر کے ارد گرد کیا پھرتا ہے۔تنجيد الاذہان فروری (۱۹) ور بوده ای برای ام و نو سو بائی تراشناخته ام همتین بند تو جانی ترا شناخته ام تو دونوں جوان کا نور ہے میں نے مجھے پہچان لیاہے سب ان میں اور رومان ہے میں نے مجھے پہچان لیا ہے مر در عشق منم را بر نشد صاله کردم و بدل او اثر نشد میں عشق کے درد سے مرگی اگر ان کو خبر نہ ہوئی سیٹیاں ہیں میں اس کے دل پر ارمنہ لڑوں یا کہیں گا ہوا ی کوشان روی زمین اسے یار مر تم کو تم نے درست کر دلت را بخود کشمیر ہے بہت بڑی بھائی کے میرے پاس کیا ہے اور میں طاقت میں کیسے ایک نی نی سایت آمد تمام شهریه بیمار پرسی ام امان خر یدہ ہیں کہ میں رات دورگردی نام شر میری بیمار پرسی کے لیے آپ اگر اس شور میشم کو دیکھ کر اس نے ادھر کا رخ بھی نوکیا اے مونس جان بے قرارم فرسود زنم من نزارم ے میری بے قرار جہان کے رفیقی میرا کمزور تیم نظم کے بارے ڈوبا ہو گیا ہے ے فرح حضرت اقدس کا