دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 370
نور تاباں پوهه نه پیشانی پر همه رو ز عشق ربانی جوس کی پیشانی سے چاند کی طرح نور چمکتا ہے اور عشق الہی سے سارا چہرہ روشن ہو جاتا ہے۔عشق ای یار متدها گشته دل به غیر خدا مجدا گشته تا اس دوست کا عشق اس کا مدعا ہی گیا ہے اور غیر اللہ سے اس کا دلی جدا ہو گیا ہے۔طب او تریک با بال مکند کس بکار رهش زبان مکند خدا کا لطف بیش اپنے طبوں کے شامل حال رہتا ہے اس کا انہیں کی انتہا نہیں اٹھاتا هر که اس در گرفت کارش شد صد امید سے بروزگارش شد جس نے دو دروازه اختیار کیا اس کام بن گی اور اسکے بار بار کی کامیابی پی یو لوی ام ایک بندہ نہیں تھے مثلی اس داستان کجا دیدی پس چه اهجر او پسندیدی چرا لے اس محبوب کی طرح کا کوئی اور محبوب کہانی دیکھا ہے پھر کیوں اُس کی ہوائی کو پسند کر لیا ه که تو زنده تر رخش گیری این نباشند که پیش ازاں میری تر ے انت بہتر ہے کہ فورا تو اس کا راستہ اختیار کرے۔ایسا نہ ہو کہ اس سے پہلے ہی مرجائے عمر اول ہیں کجا رفته است رفت و بیگرز تو چهار رفته است اپنی پہلی عمر کو دیکھے کہ کدھر چلی گئی۔وہ توضا اور کوئی گاری کیا ہے یا اس سے کہاکہ ہو گیا باره عمر رفت در خودی پاره را بسر کشی بردی عمر کا ایک حقہ تو بچھ میں پہلا گیا۔اور ایک حصہ عمر کا گر نے سرکشی میں گزارا تازه رفت دو باند پس خورده دشمنان شاد و یار آزرده چھا حقہ تو گیا۔اب بچا کھچا رہ گیا ہے۔ارشمی نوش ہیں اور سی خوش ہیں اور دوست ناراض