دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 366
۳۶۶ آجا آنکه ما را تشریح نگار نمود است امام اس خدائے و دود وہ پیرا میں نے ہمیں معشوق کا چہرہ دکھایا۔ وہ خدائے مربان کا الہام ہی تو ہے # اگه داد از یقین دول جائے بہت گفتار آن دل آرا ہے وہ چیز میں نے دلی یقین کا جام پلایا۔ وہ اس معشوق کی گفتار ہی تو ہے صل دلدار و مستی از جامش همه حاصل شده و الهامش جوب کا وصل اور اس کے جام شراب کی مستی ۔ سب اُس کے الہام ہی سے حاصل ہوئی اسے بریدہ امید ها از خدا توبه کن از فساد خود بانه آن اسے وہ شخص میں نے اپنی امیدیں خدا سے اسے توڑ لی ہیں تو یہ کر اور اپنے اس فساد سے باز میں دنیا نے اول دوسے چند است آخرش کار با خداوند است اس دلیل دنیا کا پیش کی تھوڑی سی دیر کی چیز ہے آخر کا ر خدا سے ہی واسطہ پڑتا ہے۔ ترک کو کین وکیر وتار و دلال اتنا نہ کارت کند بیسو نے ضلال شمنی متکبر اللہ نانہ خود کو ترک کر دے ۔ تاکہ تیرا خاتمہ گمراہی پر نہ ہو چول این دام گر بند ی بار باز نانی درین بلاد و درباره جب تو ان شکارگاہ سے ابا اور ریاست اندر لے گا تو پھر تو ان سکوں اور شہروں میں واپس نہیں آئے گا اسے دودیں ں بے خبر بخور مقیم دیں کہ نجات معلق است بدیں رے دین سے بے خبر انسان۔ دینی کا غم کھا۔ دہلی کا غم کھا کیونکہ تیری نجات دین سے ہی وابستہ ہے ہم بان تعاقل مکن انہیں ان انہیں نیم خویش که تما کار شکل است به بیش کے اپنے اس تم سے غفلت نہ کر یہ کہ تجھے مشکل کام در پیش