دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 365 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 365

ہیں خورد جلد خلق مے دارند باز کم کن کر چوں تو بسیار اند معقل توسارے جہان کے پاس ہے اس پر خون گرگوری تیرے سے تیرے پڑے پھرتے ہیں کیونکہ یہ ور دل کام دلدار است هرچه خیرش کنند به کار است چارو دول کا علاج تو دلدار کا کام ہے اس کے سوا جو علاج بھی لوگ تجویز کریں وہ فضول ہے زهر فرقت چشی و نا کامی باز منکر به وحی و الهامی۔تو جدائی کا دور چکھ رہا ہے اور نامراد ہے گر پھر بھی وحی و الہام سے منکر ہے جان تو بر لب از خوردن آب باز از آب زندگی روتاب | پانی نہ پینے سے تو جہاں بلب ہو رہا ہے۔پھر بھی آپ حیات سے مرد گرمان ہے دار نے ہر تنکے که در دام است آن بدار الشفاه وحی خداست ر اس شک کا علاج ہو دلوں میں پیدا ہو وہ خدا کی وحی کے شفا خانہ میں ہے هست بر عقل منقت الهام که از و بخت هر تصویر نام | عقل پر السلام کا احسان ہے کہ اس کی برکت سے ہر کمزور خیال پختہ ہو جاتا ہے۔آن گمان برد و این نمود فرانه الان نهال گفت این شود آن بازار ان خود نیست این کیف بشهر آن طمع داد و این بجا آورد 127 اس نے گایا اور اس نے ہاتھ میں دیا۔اس نے امید دلائی اور اس نے پوری کردی آنکه شکست بر شت دل ما است و جی کو اتنے نے همتا وہ چیز نہیں تھے ہمارے دل کے ہر یت کو ہی توڑ دیلدہ خدائے لاثانی کی رہی ہی تو ہے دل ہریت