دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 365
این مرد جمله خلق ہے دارند ناز کم کن که چون تو بسیار اند معقل تو سارے جہان کے پاس ہے اس پر تو نہ کر کیونکہ تیرے جیسے میرے پڑے پھرتے ہیں چارو دل کلام دلدار است هر چه غیرش کنند۔ بیکار است۔ دل کا علاج تو دلدار کا کلام ہے اس کے سوا جو علامتی بھی لوگ تجویز کریں وہ فضول ہے۔ ز هر فرقت چیشی و ناکامی باز منکر به وحی و الهامی ۔ تو جدائی کا زہر چکھ رہا ہے اور امام سے شکر ہے اور نامراد ہے مگر پھر بھی وحی و الہام سے جان تو بر لب از خوردن آب باز از آب زندگی رو تاب پانی نہ پینے سے تو جاں بلب ہو رہا ہے ۔ پھر بھی آپ حیات سے مجھ کرمان ہے دارہونے پر شکی که در ام است یک بدار الشفاء و چی خداست ہر اس شک کا علاج جو دلوں میں پیدا ہو وہ خدا کی وحی کے شفا خانہ میں ہے هست بر عقل نت الهام که از و پخت هر تصویر خام عقل پر الہام کا احسان ہے کہ اس کی برکت سے ہر کمزور خیال پختہ ہو جاتا ہے۔ ان گمان برد و این نمود فراز اول نهال گفت و این کشود آن رازی اس نے صرف گمان کیا اور اس نے دکھلایا اس نے دل میں ایک بات سوچی اور اس کے دوران ہی کھل کر رکھنا آن فروریخست این یک بشهر و آل طمع داد و این بیجا آورد اس نے گرایا اور اس نے ہاتھ میں دیا اس نے امید دلائی اور اس نے پوری کردی آنکه بشکست بر دل ما است دومی کمال نے بی همتا وہ چیز جس نے ہمارے دل سے ہر بے کو ہی توڑ دیلدہ خدائے انجانی کی دھی ہی تو ہے