دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 364 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 364

۳۴ یکر تو طالب خدا ہستی اس تھیں جو کہ بخشت اسے وہ شخص کہ جو خدا کا طالب ہے تو ایسا تھیں۔ معاش کر تو مجھے سرشار کر دے ایک تھیں جو کہ سبیل تو گردد همه در بابر میل تو گردد وہ یقیں ڈھونڈ زیرے لیے سیلاب بن جائے اور تیری ساری محبت خدا کے لیے ہی ہو جائے اں تھیں جو که آتش افروزد هر چه غیر خدا همه سوزد وہ یقیں ڈھوڑا جو ایسی آگ جلائے جو کہ ھر ا سلا الله کو کو تقسیم تقسیم کو بھاتے دیقی ست زهد و عرفان هم گفتیت آشکار و پنهان هم یقین ہی کی بدولت نہ اور یر قان بھی حاصل ہوتا ہے یہ بات میں نے تجھ سے ظاہر ابھی کہہ دی اور مخفی بھی جو یقیں دین تو یوں برداری سر می اند کبر و دل ریا کاری بیر یقین کے تیرا دینی مرحلہ کی طرح ہے سر تکبیر نمبر سے بھرا ہوا اور دل دیا میں بند 3 بے یقیں نفس گرووت چو سنگے جنیدش نزد پر فساد ر گے تها بغیر یقینی کے تیر انفس کتے کی طرح ہو جاتا ہے۔ ہر فساد کے وقت اُس کی رگ حرکت میں آجاتی ہے هر که دور انه نگار خواهد ماند نفس دول با شکار خواهد ماندم شخص محبوب سے دور رہے گا۔ وہ ہمیشہ نفس وتی کا شکار رہے گا اگر ترا آرزوی دیدار است پاک دل شور شکل این کار است اگر تجھے دیدار کی خواہش ہے تو پاک دل ہو جا۔ یہ بات مشکل نہیں ہے این مراد از خود چھ سے ہوئی وحی می شوید از سید روئی تو اس مراد کو معقل کے زور سے کیا ڈھونڈتا ہے۔ خدا کی وحی ہی منہ کی کالک کو دھو سکتی ہے