دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 363 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 363

سروس از پئے وصل اس مہمین پاک اوفتاده سر نیاز بخاک اس پاک مہیمن کے میل کی خاطر وہ گرا اور عاجزی سے اپنا سر خاک پر رکھ دیا با خدائے کیتا کے پر زمین و بر آسماں جائے هر زمان با خدا ده برا وقت خدائے واحد کے ساتھ زمین اور آسمان پر قرار پاتا ہے ذره ذره محمدا شده از زمیں دل پریدہ ہوئے عرش بریں اس کا ذرہ ذرہ زمین سے بے تعلق ہو گیا اور اس کا دل عرش بریں کی جانب مر گیا بر روح او تجلیات خدا در دلش جلوه گاه ذات خدا اس کے چہرہ پر خدا کی تھتی ہے اور اس کا دل ذات باری کا جلوہ گاہ ہے۔ این همه حالت از خدا آید چوں یقیں از کلامش افزاید یہ سب حالت خدا کی مہربانی سے ہی آتی ہے جب کلام الہی کی وجہ سے بندہ کا یقین زیادہ ہو جاتا ہے۔ تو نہ فہمی هنوز این سخنم در دلت چون فرد شوم چه کنم انہ بھی میری بات کو نہیں سمجھتا ہیں تیرے دل میں کیونکر گھس جاؤں ؟ بتا کیا کروں اسے دریا که دل نورد گداخت درد ما را مخاطبی نه شناخت افسوس کہ ہمار اول درد کے بارے گھرانہ ہو گیا ۔ مگر ہمارے درد کو مخاطب نے نہ پہچانا اسے یار برا اسے خوار کر دئے یار زود بر آن که دل آورد از شب یلدا اسے کہ نہ یار کے ہرہ کے سورج جلدی باہر نکل کر تم میری بات کی وجہ سے ہما راحل آزردہ ہوگیا ۔ ما هم در عمر ما هم رسید تا بکنار بکارم در آئی۔ اسے دلدار ہماری عمر بھی ختم ہونے کو آگئی ۔ اسے دلدار میری گود میں آجار