دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 361
اس خدائے عجیب فرول تست که از و صد نبات ظلمت است کانو - ی کمر کا نہ تیرے دل میں ہے کہ اس سے قسم قسم کی تاریک روئیدگی پیدا ہو گئی ہے۔ ہم خدا الله افسوس کر است دشت و ہم دھواں چوں بخوابی در فقلت اسے ناداں اندھیری رات ہے اور جنگل اور دنیا گردوں کا خوف سے نادان تو کیونکر تواپنے غفلت میں پڑا ہے۔ خیزد بر حال خود نگاه بکن خطر ره به مبین و آه بکن ا اور اپنے حال پر نظر ڈال۔ راستے کے خطرہ کو دیکھے خیز و از نفس خود بپرس نشان که چه خواهد مراتب عرفان الے اور اپنے نفس سے ہی دریافت کرلے کہ وہ معرفت کے کیسے کیسے مارچ ہانگھتا ہے چاتیں ندامت و آب جهات یا پسندید در طه شهراست یا اس کے نزدیک یقین ہی آپ حیات ہے یا وہ شکوک و شبہات کے بھنور کو پسند کرتا ہے۔ محرمات سے پید برائے یقیں نجل چوں کرو اس کریم میں از تراول یقین کے لیے اسی تیار ہے تو پھر اس کی اور مددگار خانے تجھ سے حل کیوں کر رکھا هرچه در قطرات دور ریخته است باززان علام جان گریخته است ور چیز خود اس نے تیری فطرت میں ڈال دی ہے پھر اس ارادہ سے اُس نے گرین کہوں کیا این خیال شد که آن کریم و دیگر داد مصر فضائی این تقویم مردیم مر ندا نے انسانی فطرت کا ہر تقاضا پورا کر دیا ہے سے ظاہر ہے کہ اس کریم وہ ہم خدا رہی۔ اس بات ہے نا و انسان از قصر همست له گشت قاتل ہے اور فطرت اور پھر انسان ہی اپنی ہمت کی کمی سے فورس کے عطا کر وہ نور نظرت سے غافل ہو گیا ہے گیا