دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 360
1 ۳۶۰ ال لیتے کہ مانے زخطاست اگر بخواهی رهش بودیم است وہ یقین ہو گناہ سے بچاتا ہے اگر تو چاہیے تو میں تجھ سے اس کی حقیقت بیان کردوں اس ال کلام خدا بقطع و یقیں پاک ویرتزی دخل ویو میں وہ ہند کا قطعی او یقینی کلام ہے۔ جو شیطان لعیسی کے پھل سے پاک اور بالاتر ہو اپس عمان چاره خطا کاریست راه دیگر طریق مکاریست | وہی کلام گناہ کا علاج ہے ۔ کوئی پس وہی اور طریقہ محض مکاری ہے کس نشنیدی که با یقین بلاک باز در بیشه رود بیباک کیا تو نے کبھی سنا کہ اگر ہلاک ہو جانے کا یقین ہو تو پھر بھی کوئی نڈر ہو کر جنگل میں جاتا ہوں پس چه ممکن که با یقین خدا باز گردد دلے بگرد خطا ایس کیوں کر ممکن ہے کہ خدا پر یقین ہو کر پھر بھی کوئی مل گناہ میں منہمک رہتا ہو تنگ من را یقیں نہادی نام دین شدی با جد دست به نام تولے شکوک و شبہات کا نام یقین رکھ چھوڑا ہے اس لیے تو گناہوں کی وجہ سے ہر نام ہے ام کے سوئے خود نظر انداز از سر محمه دیده ساکن باز وہ اپنی طرف دیکھے اور شور سے آنکھیں کھول تا بدانی که کور و محجوبی سخت محروم مانده زریں خوبی کہ مجھے معلوم ہو کہ تو اندھا اور مجرب ہے اور یقین کی خوبی سے پائل محمودم وره نیست در تو از انوار شب دیجور را باد چه کار تجھ میں ذرا بھی اور نہیں ہے۔ اندھیری گھپ رات کو چاند سے کیا واسطہ