دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 359 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 359

۲۵۹ ہے تھیں جوں نجات یا بد خلق بیگاں رو ریتی باید تعلق یا خلق مخلوقات تعین کے بغیر کیونکہ نجات پاسکتی ہے ۔ لازمی ہے کہ اس صورت میں تعلقت تھی سے منہ پھیرے بے خدا ہوں یہیں بدل آید گفت گو یا تما هم باید بغیر خدا کے دل میں یقین کس طرح پیدا ہو اس کے لیے یا تو کلام درکار ہے یا دیدار اے کہ مغرور راه مظنونی تو نہ عاقل که سخت مجنونی اے وہ شخص کہ تو ظن کے راستہ پر مغرور ہے تو عقل مند نہیں بلکہ سخت دیوانہ ہے الفني اتارہ بندۂ صد آن جز یقین کے گرد دانے سے باز و نفس اتارہ ہو سینکڑوں حرص و ہوا کا غلام ہے بغیر یقین کے اس سے کیونکر باز رہ سکتا ہے چون به بینی به بیشتر شیری نه کنی در گریختن ویری جب تو کسی جنگل میں شیر کو دیکھ لیتا ہے تو وہاں سے بھاگنے میں دیر نہیں کرتا همچنین پیش تو پر گرگ آید دل تند هیبت سترگ آید اسی طرح جب تیرے سامنے بھیڑیا آجاتا ہے تو تیرا دل تڑپنے لگتا ہے اور نکھے بہت ڈر لگتا ہے میں ہیں دھوئے تھیں کہ تما ا ت بہت بر کرد گارو روز جزا پر یقین کے اس دھوئی کے ساتھ جو مجھے خدا تعالیٰ اور روز جزا کے متعلق ہے۔ انہ چوں سے کئی گناہ بزرگ چه خدا نیست نزد تو چول گرگ ی این طرح ها و کبر کرتا ہے۔ کیا خدا تیرے نزدیک ایک بھیڑیے جیسا بھی نہیں بعد انیستت یقیں زنهار زمین پر گرگان خوش آیت مردار تجھے ہر گر خدا پر یقین نہیں اسی لیے بھیڑوں کی طرح تجھے مردار ہی پسند آتا ہے