دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 358 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 358

۳۵۸ سنة ہے اس کے ان دہانِ دلدارے قی نکتہ ہائے نشنید و اسرارے یک وہ شخص تر وہ ہے جو اپنے معشوق کے منہ سے نکتے اور اسرار مل دگر از خیال خود یگان پیس کجا باشد این کیس کیساں ا ہر شخص وہ ہے جواپنے خیالت کی یاد پر اور ان میں ہوا ہے یا کس را دید در برابر ہوسکے ہیں ذوق ایں کے پر تو نے دائی ہرزہ موعود کنی بنادانی جو کہ تو اس شراب کا مزا نہیں جانتا۔اس لیے نادانی سے فضول ہونکتا رہتا ہے ا شد دلال اس خدا دال که خود و به آواز نه که از و همه کس نماید باز تو خدا اُسے سمجھے جو خود آواز دیتا ہے نہ کہ اسے جو کسی کے وہم کا نتیجہ ہے واجب آمد ازیں بھر دوراں کہ محکم کند خدائے بیگاں اس دلیل سے یہ ثابت ہوا کہ ہر زمانہ نہیں خدائے واحد کلام کیا کرتا ہے ور در نه دین است محض افسانہ نہیں دیں ز صدق بیگانه ند نہ دین صرف ایک کہانی بن جاتا ہے ایسا دین بھائی سے بیگانہ ہے آن بز شیطان بودند از حق دیں کہ نہ دارد دوام وحی نہیں وہ دین خدا کی رات سے میں یکا شیطان کی طرف سے ہے جو دانی یقینی ہی اپنے اندر نہ رکھا ہو دیں اماں دی بود که وحی خدا نشود زد به هیچ وقت مبدا دین دین تو دہی دین ہوتا ہے جس سے خدا کی وحی کسی وقت بھی جدا نہ ہو وی دین خداست چون توام در ایک پو رشد دگر شود هم میر ھی اور دین خدام نکن دونوں جڑواں پیروں میں نہیں اگر ایک بہاتی رہے گی یہ دوسری بھی گم ہو جائے گی