دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 353
۳۵۳ آن قدر بار با نشانی نمود که بعد معرفت در سے بک شود اور اس نے بارہا اس قدر انسان دکھاتے کہ معرفت کے سینکڑوں دروازہ سے کھول دیئے از سرے زنی با شمارے سول پنداشتی چینیں کارے پھر بھی تو انکار سے سر ہلاتا ہے ۔ اور تو نے یہ کام آسان سمجھ لیا ہے لا أبالى فتاده زاں یار تاریخی نمال جمال ورزان گفتار تر مس یار کی طرف سے ہے یہ وا ہوگیا ہے اور اس حسن اور اس گفتار کی طرت سے اُس لاپروا مردگان را همی کشی بکنار و از دل آرام زنده بیزار مردہ لاشوں کو تو اپنی بغل میں تو اپنی بغل میں کھینچتا ہے مام ہے اور زندہ دغیر فانی محبوب سے بیزار ہے کی شنیدی که تاریخ از بار است خشن و بر این دو کار خوار است راست دو کام بہت مشکل ہیں۔ تو لے کسی کی بابت سنا ہے کہ وہ دوست سے لا ہو، ہوشیش اور پھر صبر یہ دو کام بہت لاپروا این بود حال و طور عاشق دار این بود قدیر دلبر سے مردار و دارم کیا ہی عاشق نہار کا حال اور طریقہ ہوا کرتا ہے اور یہ اسے مردار کیا دلبر کی کسی قدر ہوا کرتی ہے۔ اشتغال را بود ز صدق انار سے یہ دل تما به عشق چه کار معاشقوں میں تصدق کے آثار پائے جاتے ہیں نے تاریک دل انسانی تجھے عشق سے کیا وسط کرد تو چون رسید نال کوئے یک آن داستان خوش کھوئے جب اُس گلی سے تیرے پاس اس حیلمی محبوب کا پیغام پر پہنچا مونش این که کا فرش خوانی و از سر زجر از دورش رانی ایران ولو نے اس کی یہ عورت کی کہ اسے کافر کہتا ہے اور گھرک کر اسے اپنے مردانہ سے نکالتا۔