دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 347 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 347

۳۴۷ اپس کھائی چرانے آئی اندریں بارگاو یکتائی نہیں اسے طالبہ تو کہاں ہے اور کیوں نہیں آتا م اس بارگاہ احدیث کے حضور تو دعا کن برقی و سوز وگداز تا شنود بر دلت در حق بازی کام تر صدق اور مونہ و گدانہ سے دعا کر تا کہ خدا کا دروازہ تجھے از از خودی حال خود خراب ممکن شب پری کا یہ آفتاب مکن نودی سے اپنا مال خواب ذکر تو تو چمگادڑ ہے آفتاب کا چهل رصد میجر کس بعد تمام نصرت یار را رسد هنگام کی ماجدی مد کمال کو پہنچ جاتی ہے۔تو یار کی مدد وقت آجاتا ہے پس چرا انفرش نمی خواهی دور رفتی بکام گمراهی پھر تو اس کی نصرت کیوں نہیں لگتا۔تو اگر راہی کے قدم کے ساتھ دور چلا گیا ہے نه زمان بینی و نه حالت قوم دل چو کوران زبان کشادہ مالهم ایک چشمت ذکبر پوشیده چه کنم تا کتابدت دیده سے دا شخص ک تیری آنکھ نمبر سے ڈھکی ہوئی ہے میں کیا کروں جو تیری آنکھیں کھلیں گر ترا در دست صدق طلب خودروی با مکن زیر کی ادب زن اگر تیرے دل میں سچی طلب ہے تو بے ادبی کی وجہ سے خود روی نوکر را در راه خدا بیجو نہ خدا کو نہ چول خدا بجائے خود آ خدا کی مراہ کا بھید خود خدا ہی سے طلب کرتی تو مدار کی طرح نہیں ہے اپنی جگہ یا