دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 343
۳۴۳ کرده بنیاد خود همه و بران همه بانک از صدق شمال حیران انوں نے اپنی ہستی کی بنیاد اکھیڑ دو یہاں تک کہ فرشتے بھی اُن کی وہ ناداری پر حیران ہیں چوں دلے ہوئے دل رہے وارد یار ہوں یار خویش بگذارد چونکہ دل کو دل کی طرف راہ ہوتی ہے۔ پس یار اپنے یار کو کیونکر چھوڑ دے لا جرم این چنیں وفاداری جام عرفت خور دازاں ایسے اپس ضرور ایسا وفادار اس دوست کے ہاتھ سے عزت کا جام پیتا ہے ہمچو دیوانه یک جهال خیزد تا بیک لحظه خون او ریزد ایک جہان دیوانوں کی طرح اٹھ کھڑا ہوتا ہے تا کہ وہ اسی دیر میں اس کا کام تمام کر دے لیکن آن بار خود فرود آید نا عدو را دو دست بنماید لیکن وہ یار خود نازل ہوتا ہے ۔ تاکہ دشمنوں کو دو دو ہاتھ دکھائے همچنین صادقال نشان دارنده زیباں پر شان به پیکاره اند صادقوں کے لیی نشانات ہوتے ہیں اُن کی خاطر فرشتے جنگ کرتے ہیں ایں نہال جنگ گر بشر و دی ماه مردانی راه بگویدے اگر بیشتر اس مخفی جنگ کو دیکھتا تو خدا کے راستے پر چلنے والوں کا راستہ اختیار کر لیتا بر عدد سے کہ خیر و از سرکیس خود بکو بد سرش خدائے میں پر دشمن جو عداوت کی راہ سے اٹھتا ہے تو خدائے معین خود اُس کا سر کچل دیتا ہے چول شودر بندہ بار آں جاناں پر کابیش دوند سلطاناں جب بندہ اسی محبوب کا دوست بن جاتا ہے تو بادشاہ اس کی رکاب کے ساتھ دوڑتے ہیں