دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 342
سے پوری ہوں میں وحید سے کئی یا مجاورت احمد واحد کے بندوں سے خال اور ضد کرتا ہے تو تو زہر کھاتا ازی تیر نو سواری در از فضل حضرت باری جب تک تو فنا نہیں ہوتا تب تک گرماں سے بھی بد تر ہے اور خدا کی رحمت سے جو دور ہے تان گردو سرت گوی نیاز ردو باد ج تک تیر و سیا جان کے ساتھ نیا نہ ہوگا اب تک تیر نہیں کے سامنے سے پردہ نہ لیٹے گا نا ریز دانه همه پر و بال اندر اینجا پریدن است محال تک تیرے سب بال و پر نہ چھڑ جائیں گے تب تک اس راہ میں تیرا انا محال ہے پرده نیست بر گوری دلدار تو یه خود پرده خودی بردار دار کے چہرہ پر تو کوئی پردہ نہیں ہے مگر تو اپنے آگے سے خودی کا پردہ اٹھا ر کند ادوات اندل شد یار کار او شده مدل اندر کار جیسے لا بدال دولت مل جاتی ہے اُس کا کام ہر بات میں عجز و انکسارہ ہوتا ہے ال سیداں تھائے اور دیدند کہ بلایا برائے او دیدند ان خوش قسموں نے اس کے چھرہ کو دیکھ لیا جنہوں نے اس کی راہ میں مصیبتیں اٹھا میں اد ریختہ پئے آں شاہ دل زکف و از سر افتاده کلاہ اس بادشاہ کے لیے انہوں نے اپنی عورت قربان کر دیا دل ہاتھ سے گیا اور ٹوپی سر سے اُتری نمایند سوئے یار گذر از شمش جان کنند زیر در زیر یوہ محبوب کی طرف وانت نہیں پاتے تو اس کے غم میں اپنی جان زیر و زبر کر دیتے ہیں