دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 331
محمد رتیں پھر جو شیخ عطاره الام بالی و لعنت اخبار بھا سے ایسا نہ ہوتا ہے جیسے معمار کا شیشہ اور نا اہوں کی لعنت سے لاپروا ہو جاتا ہے دستی بینی کشیده در این دول برکشیده دو دست یارا انگل یک غیب کا ہاتھ اس کے دان کے دل کو کھینچ لیتا ہے اور اس کے دونوں ہاتھ سے کھڑا سے نکال لیتے ہیں پاک دل پاک جان وپاک خمیر دور تر از مکایید و تزویر وہ پاک دل پاک روح اور پاک بحال ہو جاتا ہے۔چالاکیوں اور جھوٹ سے بہت دور انستان عشق نیز مرکب ماند که از ان مشت خاک پیچ نماند عشق نے گھوڑے کو اتنا تیز روی پا کر اس مشت خاک کا کچھ بھی باقی در رہا۔کشته دلبر و دلارامے رستہ یکسر رنگ دار تھے نام ابر اور دلارام پر قربان اور تنگ و ناموس بالکل بے پروا ہو جاتا ہے ی تو عشق و تی تو ہر آنہ سے قصہ کوتاہ کرد آواز سے آنے آوازے وہ عشق سے بھر پور اور مومن سے خالی ہوتا ہے ایک ہی آواز نے اس کا کام تمامک اس مائے یقیں کہ گوش نیند کرد کار و ز غیر حق بهراد سے اسی یقینی آواز نے جو اس کے کانوں میں پڑی بڑا کام کیا اور اسے غیر اللہ۔سے منقطع رفتہ بیروں نے حلقہ انتہار دل بریده نه غیر آن دلدار فیروں کے دائرہ سے باہر نکل گیا اور غیر اللہ سے ہے تعلق ہو گیا پاک گشته دارت سنتی خویش ایستنه از بند خود پرستی خویش ؟ دہ رہتی سستی کی آلودگی سے پاک ہو گیا اور خود پرستی کی قید سے آزاد