دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 327
بے یقین کے نمی شود دل پاک کرده چون سر به آرد از تو خاک پر یقین کے دل بھی کب پاک ہو سکتا ہے خاک کے نیچے سے مردہ کیونکہ سر اُٹھا سکتا ہے گریفین نیست نیز ریہاں نیست زهد و صدق و بنات و عرفان نیست ر یقین نہیں تو یمان بھی نہیں ہے۔ اس طرح بغیر یقین کے زہد صدق استقلال اور عرفان بھی حاصل نہیں ہوتا جیتیں مشکل است صدق و ثبات سخت دشوار ترک منهیات بغیر یقینی کے وفاداری اور استقامت شکل ہے اور گناہوں کا ترک کرنا بھی سخت دشوار ہے نین سبب خلق شد و مرداری مرتی گشت از سر پارے سے خلقت مردار کی طرح ہو گئی اسی وجہ سے اور بار کی محبت سے دل خالی ہو گیا روز و شب کار و بار فسق و فجور حاصل عمر کفر و کبر و غرور لوگ دن رات فسق و فجور میں مبتلا ہیں زندگی کا ما حصل کفر تکبر اور نور ہو گیا ہے۔ دین و مذہب برائے آن باشد کہ یقیں سوئے حتی کشان باشد دین اور مذہب تو اس لیے ہوتا ہے کہ یقین پیدا کر کے وہ خدا کی طرف کھیلتے ایں چہ دینے کے مے کشد ہر اس سوئے شیطان و بیرت شیطان یر دین اکیسا ہے جو ہر لحظہ شیطان اور شیطانی حرکتوں کی طرف کھینچتا ہے از ریا عیب خویش سے پوشند مردم از حرص و آز سے جوشند۔ یہ لوگ ریا سے اپنے عیبوں کو چھپاتے ہیں اور ہر وقت ان میں لالچ اور حرص پوش مار رہے ہیں چوں یقین نیست بر خدائے وحید لاجرم نفس شد غیبیت و پلید پر کو ضائے واحد پر یقین ہی نہیں ہے اس ایسے بے شک نفس گندہ اور پلید ہو گیا ہے۔