دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 300
عشق است در آتش سوزان نیشاند عشق است که بر ناکافی نت غلطانه عشق ہی ہے جو بھڑکتی آگ میں بٹھا دیتا ہے۔عشق ہی ہے جو ذلت کی خاک پر لٹا دیتا ہے۔بو ے میں دیے پاک شودمن در پذیرم عشق رات کورین ال میکردم بر راند میں نیں سن سکتاکہ بیری کے دل پاک ہوسکتا ہے شق ہی ہے جو کہ ہم اس قید سے رہائی دلا دیتا ہے رحقیقت الوحی صفحه ۲۰۳ و ۲۰۲) ایگان پیش رو یک گل مپرس سالگرد ناس جلسے مراں سمجھو کار چھے۔اڑیا تی ہو خداوند کا راستہ نفس کے غلاموں سے جو چھ۔جہاں مٹی اٹلہ کی ہو وہیں سوار کو تلاش کو رکین کو ستان ہے اس میں منقول کر میش کریں نظر سے میاں بیو ہر شخص اس دوست کے لیے لبے قرار ہے جا اس کی صحبت اختیار کہ اور اس سے تسکین حاصل کر بر استان آنکه ز خود رفت هر بار ایوان اک بانو مرضی یا اس دوران مجود شخص کے آستانہ میں نے اس کےلیے اپنے میں ناک کا ہے نیک ہوکر اشارہ اسی طرح پیار کی مرضی ڈھونڈ دیکھا ران تلخ کامی و رقت بدور سند حرفت گزین رفتم حصار کے دوران میجو ھی مرد تھی اور سوزش چکھ کر اس تک پہنچتے ہیں تو بھی سوز اختیار کر اور فتح اس میں ڈھونٹا مسند خرد شستن طریق نیست این نفس عمل مبونه ونگا سے مران مجو غرور کی مسند پر بیٹھنا ٹھیک نہیں تو اس ذلیل نفس کو معلا دے اور پھر خدا کو تلاش رحقیقة الوحی صفحه ۲۰۴)