دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 299
+49 ید با کان محمد کو جب خداست تو بے زانی چ گوید در تابش پرسی ہے وہ جانتا ہے کہ ہر مرد اس کی شان میں کیا بکواس کر رہا۔تشجيد الاذان دسمبر ۴۱۹۰۷) گرفتاری اور بم اوقات حیات یا ان سے یوں ہمت نہ ہونے اسے وہ ہمیشہ ہوا و ہوس کا قیدی ہے ایسے یہ امر نفس کے ہوتے تجھے خدا کی مددکی تک پہنچ سکتی ہے۔ا قال صدق ابردی که بعد زید کی مجھے نیست گر فرق شود فرو نے ہاں اگر تو وہ صدق اختیار کرنے جو بیٹی نے اختیار کیا تھا تو پھر تجب نہیں کہ کوئی فرعون شوق ہو جائے رحقیقة الوحی صفحه ۵۳ مطبوعه ۱۵ مئی ۱۶۱۹۰۷ کر یہ کے منویہ جہاں نشاند وی است کاین کار می کشاند اس کے دور میں کالا ایمان قربان کر سے مشتق ہی ہے میں کامرازی، ناداری سے کرا دیتا ہے