دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 296 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 296

ال جدید ایران است ودر است و با آن رو پنهان تو نی دیوانہ ہے تجھے قتل کے زور سے ڈھونڈتا ہے۔ تیل پوشیدہ دار عقلوں سے بہت دور ہے۔ اسے از مانیان پیچکیں اگر نشد رگا گه شه ش از احسان به پایان تو وں میں سے تیری بارگاہ کا کوئی بھی واقف نہیں جو بھی واقعت ہوا وہ تیرے بے حد احسانات کی وجہ سے ہوا عاشقان کے خدو ابرو ارمیایی را این پیش دوید و المان تو تور اچھے عاشقوں کو دونوں جانی پخش دیتا ہے۔ لیکن تیرے غلاموں کی نظر میں دونوں بیان نہیں ہیں ایک نظر فرمان کو نه شود جنگ بدال خیلی محتاج است کئے جانیے برہان تو ہو۔ محصولات تو تیرے دلائل کی کشش کی محتاج ہے ہربانی کی نظر فرمایا کہ جنگ و جدل ختم ہو۔ ای نشان خاک کاشت درخشند در جهان تا شود بر تکریت محامد خان تو ایک نشان دکھاتا کہ تیرانی دنیا میں چکے اور تاکہ ہر جبکہ اسلام تیرا ثنا خواں ہو جائے رمین نیرو برگرد ندارم هیچ هم می دارم کار کرد دره درخشان تو اگر زمین زیرو پر ہو جائے تو مجھے کچھ غم نہیں مجھے تو یہی تم ہے کہ کہیں تیری موشن راہ گم نہ ہو جائے نگور کیت از این رو سر بسیار هست قد کوتاه کنی باآیات عظیم الشان تو دین کے معاملہ میں گفتگو اور بہت بڑی دوسری ہے ۔ تو عظیم الشان نشانات دکھا کر فقہ مختصر کرد سے ان قاتل ہے وہ فطرت ایار را اگر این سال سوئے آل ایوان تو دشمنوں کی فطرت کو زلزلہ رکھا کر ہلا ڈال کہ وہ ڈر کر تیری درگاہ کی طرف آجائیں ریت وال کون در لباس زاویہ آپ کے سوزد عمر این بندگی این تو ازی که ده ستیاگری و زاری کرنے والا بندہ کب تک تم میں ۔