دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 295 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 295

مور چه اصل این داستان دور نگ کو گا ہے مصلحت کشد که بجنگ اس دو رنگی معشوق سے کیا حاصل ہوگا۔ کبھی تجھے صلح کر کے قتل کرتا ہے کبھی لڑائی کر کے جمه دل نه بندی پدال و انتقال که معرض رہا ند یہ بنو گران تو اس مجوب سے اپنا دل کیوں نہیں لگاتا کہ جس کی محبت قید شدید سے آزاد کر دیتی ہے برد انکی انجام کن اے خوبی نه سعدی شنو گر زمین نشنوی اے گرا شخص جا۔ اور اپنی مانیت کی فکر کریہ اگر تم میری بات نہیں سنتا تو مستعدی کی بات ہی کو لے عروسی بود نوبت ما تمت اگر بر نکوئی بود خاتمت : ینی یہ کہ تیرے نام کا شادی ہو جائے اگر یرانان یکی پر ہو تیری موت کاوقت برائے نام کے نوشی کی کھڑی ہوں را لو میت صفر ۲۰ مطبوعه ۱۹۰۵) سے سعدی کا مصریح ہے الها في مصرع تولول در ایران کسری فتاد کسری کے محل میں زلزلہ آ گیا دالحکم به و چجوری ۱۶۱۹۰۶) ے اوران دل پر تمام قربان تو بردار یکی از دست بر در عرفان تو ے کہ تجھ پر میر اور مالی دل اور ہرات قران ہے میرے حال پر اپنی رحمت سے اپنی معرفت کا ہر دروازہ کھول دے