دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 293
۲۹۳ الهامي مصرع رہا گوسفندان عالی جناب بارگاہ عالی کی بکریاں رہا ہو گئیں الهامي شعر دیده را کشته د پدر ۱۳ را کتوبر ۱۶۱۹۰۵ رسید مژده که آن یاد دلپسند آمد سرسید مژده که دیبا از میان برخاست یہ اچھی خبر آئی کہ وہ پایہ ادوست آگیا۔ خوشی کی بات ہے کہ درمیان سے دیوار اُٹھ گئی ایدر ۱۲۰ اکتوبر ۶۱۹۰۵ ) الا ہے کہ ہشیاری و پاک زاد پینے حرص دنیا مدہ دیں بیاد داد شهر دارا اسے وہ ہو مجھ دار اور نیک فطرت ہے کہ دنیا کے لالچ کے پیچھے دین کو برباد نہ کر ہیں دار فانی ولی خود مبند که دارد نهال راحتش صد گرمه دل را اس فانی دنیا سے اپنا دل نہ لگا۔ کہ اس کے آسام میں سینکڑوں دکھ پوشیدہ ہیں گر باز باشد تنها گوش هوش زگورت نداشی در آید بگوش اگر تیرے ہوش کے کان کھلے ہوں ۔ تو تجھے اپنی قبر سے یہ آواز سنائی دے کہ اسے محمد مین پس ان چند روز پیے فکر دنیائے دوں کہ بسوز کم یہ کے چند روز کے بعد اسے نے کر میرے تھے۔ تو اس دلیل دنیا کے غم میں نہ جلا