دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 277 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 277

ر اگر من و بار خود دیدم چشیدہ اس کا ارت تقا باشد ہزار شکر کہ میں نے اپنے یار کا منہ دیکھ لیا اوروہ سب مرنے چکھ لیے جی میں تھا کی لوقت دا و کیر همه منکران دین نکنم این ایستاده ام یک دگر بنا باشد میں مسکران دین کے غرور تکبر کو تو ڈر ہا ہوں اس حاضر ہوں میرے مقابل پر کوئی وہ سرا کہاں ہے ؟ مہ انور و تاباں همه فنائم تور دگر کجا و چنین قدر نے کہا باشد میں رش اور چیک کر سورج کی طرح نہ پھیلانے ہوں۔دوسرا کہاں ہے ؟ اسلامی قدرت کسی میں ہے؟ د کا بار گرم ونشان که بنمای میان شود که همه کارم از خدا باشد کام میں کرتا ہوں اور ان خانوں سے جوہیں کھاتاہوں میں ظاہر ہوا ہے کہ یا اس کا نہ اب ان کی ر ہے ہے کھوں کو چین من بترار گل شگفت اگر از طلب نشینی معجب خطا باشد اب جبکہ میرے چین میں ہزار وں پھول کھل چکے ہیں اگر تو طلب نہ کرے تو سخت تسلی ہو گی همراه و صبوری که آن نه مان آید که جلوه خور با واقع الحمی باشد وم رمان در میای کویتی کہ وقت ہائے جبکہ اسے سورج کی روشنی مینائی کو روکنے والی ہوا ہے گره نزول کیتا کار ما از پوش نگر کی قتل معان دبیرت چو دل صفا باشد لیگ یوکول سے وہ اس سے کام کا ر سے دیکھ اگر ترال بات ہوگا تو تجھے معطے عقل بھی ہے گی تماچہ شد که باز نشسته مامان کرد و سیاست کا م ر ا صفا باشد که تجھے کیا ہوا کہ سوگ میں خوار و نالاں بیٹھا ہے حالاکہ موسم تو ایسا ہے کہ ہر چند چھاری ہے مگر کفر باز که موسمی آمد که اجتماع همه اہل و انقیا باشد نفرقہ انمازی کا خیال چھوڑ دے کہ اب وقت آگیا ہے کہ تمام اہ اہش اور منفی لوگو کو جمع کیا جائے