دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 269 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 269

۲۶۹ ز بود که مصدق را شکست آید ازین بود که رو جبر با خطا باشد۔۔جیر سے تو راست بازوں کی جماعت ٹوٹ جاتی ہے۔اسی وجہ سے بیر کا طریقہ غلط وش باش که جاست خود دلیل گریز انسانی دل مردم این کجا باشند فرار ہو کہ جب تو شکست کی وہیل ہے اس سے لوگوں کے دلوں کی تسلی کہاں ہوتی ہے مرا بکر کنی مستم این گفتار کر کفرند و تو برا ہ را ستر باشد تواس کی وجہ سے مجھ پکڑ کر لا سکتا ہے کہ ان کے نزدیک تنکوں کو کافر کتنا دوست سے مگر چہ جائے جب ک تو انہیں گوئی کہ ہر ک ہے ہر ا ا و ا ر خا باشد ور اگر یہ تیرا قول ہے تو کچھ تعجب کی بات نہیں کیونکہ جو ہے ہنر ہوتا ہے وہ بکو اسی ہوتا ہے۔جو ہر آنچہ گوئی چوخود نمی دانی که ساکنان دانش را چه اجتبا باشد جو چاہے کہ کیونکہ ھے علم ہی نہیں کہ اس کے دروان پر رہنے والوں کا کتا بو نہ ا مرقہ ہے نوشته بود کشیدن اگرچه کشته شوم این که هر عمل و عمل را مهیا باشد میں تو ہر نہ اٹھانے کو تار ہوں خواہ قتل ہوا وہ یہ ہے کہ ہلال اور اس کی جوان و یعنی رویش صفان که تار می بینی و گرتنه بی تو صد دل همه جا باشد تانی و فال انھیں صاف کرتا ہ میرا جیو کے سکے دورہ تیری نظر میں وہ انصاف بھی ظلم دکھایا ہے گا مابین منتم من فضول عیب کند که بی خبر بده و رسم دین ما باشد میری اس بات میں وہ فضول کو عیب نکالتا ہےجو ہمارے دین کی راہ و رسم سے بے ہجر ہے کجاست المصادیق کرتا حقیقت ما رو میاں عمه اثر پرده خفا باشد پیرویال ایسا علم صادق کہاں ہے کہ میں پر ہماری حقیقت پر وہ حجاب میں سے بھی ظاہر ہو