دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 268 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 268

۱ زمین مرد می خواست ایسوی انتقال تر و عطر بے عمل خود اثر کجا باشد کری ہوئی زمین بھی دم عیسی کو چاہتی ہے جو آپ بے عمل ہوں ان کے وعظ کا اثر کہاں ہوتا ہے افتاده اند و فصل گر کو تبانی با مساعدی بخت نارسا باشد فضل کے دروازے کھولے گئے ہیں اگر تواب بھی نہ آئے ۔ تو یہ تیری بدبختی کی نوبت ہے برز مطالب آن مهدی و مسیح باش که کارشان همه خونریزی و وفا باشد بیہودگی سے تو اس مسیح اور مہدی کا طلبگار نہ ہو۔ جن کا کام سراسر خونریزی اور جنگ ہو گا عربی من ده تائیدیں گرا ہے مست اما یک تیغ برآری اگر ا یا باشد دھیرے عزیہ دین کی تائید کا اور یہی رشتہ ہے یہ نہیں کہ اگر کوئی انکار کرے تو تو فور انتوا میکال ہے۔ چه ها است کاری از برائے میں کشی وی بود که به وزیر پیش بقا باشد اس بات کی کیا ضرورت ہے کہ تو دین کی خاطر توار کھینچے وہ دین دین نہیں جس کی بنا خونریزی پر ہو چودیں وقتل منقول و یا با باند کدام دل کساندان و چین با باشند جبکہ دین دلیل معقول اور روشن ہو تو وہ کونساول ہو گا جسے ایسے مذہب سے انکار ہو ؟ چویں دوست اور میرے منی باید که دور نقول موجد جب نما باشد جب دین صحیح ہو تو اس کے لیے جو در کارنہیں کوچک با دلائل کلام کی طاقت سمجھو کیا ہوتی ہے۔ تو از سرائے طبیعت بنادی پیروں میں بہر صورت اجبر با جفا باشد جوکہ تو ابھی اضافی خو اہشات کے چکر سے نہیں نکلا اس وجہ سے تیری ساری خواہش ظالمانہ جبر کے لیے ہے رویت می به جا نباید است برو دلیل بده گر مرد را با شد سچائی کو دنیا میں جب اکھیلانا مناسب نہیں۔ اگر مجھے عقل ہے تو ا اور اس کے بر خلاف دلائل پیش کر