دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 257 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 257

۲۵۷ یار من بر من کرم دار دہے سر نشان دارم اگر آنے کے کرم یا سردتشان دارم مران ہم پر ہے مر رباتی رکھتا ہے میرے پاس کیوں نشان ہیں اگر کوئی دیکھنے کو آئے و یا اسے مردگل من زنده ام اے جبان تیره من تنابنده ام اس مرداور سن لو ر میں زندہ ہوں اسے دھیری راتو رقم بھی سن لو کہ میں روشن ہوں این دو شیرین کن ذیب این سرم بید اس بارے که باز می میرم میری یہ دونوں آنکھیں جو میرے سر کی رونی ہیں۔اُس یار کو دیکھتی ہیں جو میرا دلبر ہے قدیم تا عرش می دارد گند و این در گوشه دار سد از حق خبر این س سے درد کی مرد کے عرش تک پہنچتی ہے اور میرے ان دونوں کانوں کونی کی طرف سے خبر ملی ہیں صد بر ارسال تیم ال تمت بخشیده اند واین رخم از غیریق پوشیده اند مجھے لاکھوں نعمتیں بخشی گئی ہیں۔اور میرے اس چہرہ کو غیروں سے چھپا دیا گیا ہے سے دہم فرمونیاں راہر زماں چوں یہ بھیائے موسی صد نشاں میں ہر وقت فرمونی صفت لوگوں کو ید بیضا جیسے سینکڑوں نشان دکھاتا ہوں ین نشانه بد گال کو دو گراند صدرتشان بیند و غافل بگذرند قطرات لاگ ان نشانوں کی طرح سے اندھے اور رہے ہیں یا کیوں نشان دیکھ کر بھی رد نہیں کرتے دور افتادم زنجیشمان بیشتر ان مقامم کس نے دارد خبر میں لوگوں کی آنکھوں سے دور ہوں۔کسی کو میرے مقام کی خبر نہیں ہے د من اما نماز نقص معقول بخت برگ دیده محروم از قبول عقل کی کمی کی وجہ سے انہوں نے مجھ سے مقابہ کیا اور قیمت ہوکر مجھے قبول کرنے سے محور گئے