دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 257
۲۵۷ ارین برمن کرم دار دو ہے صدر نشان دارم اگر آید کے دی میرا خدا مجھ پر لیے مد حد مہربانی مہر بانی رکھتا رکھتا ہے ۔ ہے میرے پاس پاس سینکڑوں نشان میں ہیں اگرکوئی اگر کوئی دیکھنے کو آئے شنویدا مردگان من زنده ام اے جہان تیره من تا بنده ام اسے مرد وہ سن لو کہ میں زندہ ہوں۔ اسے اندھیری راتو ر تم بھی سن لو کہ میں روشن ہوں این دو چشم من که ریپ این سرم بید اس بارے کہ بار و برم زیب ری یہ دوں انھیں جو میرے سکی ہوتی ہیں اس پارک کو دکھتی ہیں جو میر امر ہے دلبر این قدم تا عرش می دارد گذر این در گوشم را رسد از حق خبر سدان اس میرے قدم کیا میر خدا کے عرش تک پہنچتی ہے۔ اور میر سے ان دونوں کانوں کو منی کی طرف سے خبریں ملتی ہیں صد هزاران نشسته بخشیده اند این ریم از غیریق پوشیده اند۔ مجھے لاکھوں نعمتیں بخشی گئی گئی ہیں۔ اور میرے اس چہرہ کو غیروں سے چھپا دیا گیا ہے سے ہم فرعونیاں یہ امر زمان چول ید بیضیائے موسی صد نشاں دہم میں ہر وقت فرمونی صفت لوگوں کو ید بیضا جیسے سینکڑوں نشان دکھاتا ہوں و ہیں نشانها بد رگال کو رو گراند صد تنشان بیبیند و غافل بگذرند کورد پر فطرت لوگ ان نشانوں کی طرف سے اندھے اور بہرے ہیں سینکریوں نشان دیکھ کر بھی پروانہیں کرتے۔ دور افتادم ز چشمان بیشتر از مقام کس نے وارد خبر میں لوگوں کی آنکھوں سے دور ہوں ۔ کسی کو میرے مقام کی خبر نہیں ہے عقل کی کمی کی وجہ سے انہوں نے مجھ سے نقاب کیا اور قیمت ہوکر مجھے قبول کرنے سے مومن کے