دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 258 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 258

۲۵۸ کس زی از جهان من آگاه نیست حقل شان تا در ماراده نیست میرے پھلی کے بازہ سے کوئی بھی واقف نہیں۔اُن کی عقل کی ہمار ے دروازہ تک رسائی نہیں از مشرق است بوشو جنگ شان اور پے بٹھائے تقی آهنگ شاں ان کا جوش اور لڑائی بیوقوفی کی وجہ سے ہے۔اور خدا کے نوسر کا بجھانا ان کا مقصد ہے اسے مرور گر پیائی سوئے ماماز و فارخت انلگنی در کوئے ما سے فریب خوردہ انسان اگر تو ہماری طرف آئے اور ہمارے پاس وفا دار ہو کر رہے دانه سر صدق وصداقت پروری روزگار سے در حضور ما بری نیز سچا بن کر اور طلب حق کی نیت سے کچھ عرصہ ہمارے پاس رہے عالمی مبنی نہ ربانی نشاں سے میاں خلق و عالم پاکستان تو جو خدائی نشانات کا ایک عالم دیکھے گا جو دنیا کوخدا کی طرف کھینچنے کے لیے آتے ہیں مجھ من من نے ظالم کہ آزارے دلم بر سر براہ دنیار سے دھیم ی نہیں چاہتا کہ اس میں تھے کوئی کیا تو ایک مہینے تیرے نانا اس لیے دینے کو تیارہوں مچنین یک سال می باید قیام ادرس این مهم است و از تو التزام ی طرح ایک سال تک میرے پاس بہنا چاہیے میری طرف سے یہ عہد ہے اورتیری طرف سے پابندی ضروری ہے گر گذشت این سال عدم بے نشاں ہر چہ ہے گوئی ہے گو بعد ناں عام جیسے بعد اگر یہ وعدہ کا بہ سال غیر کسی نشا کے گزرگیا تو مجھے جو کچھ کہنا ہے اس کے بعد کیو صالحات این دراین دست دست ساده استعمال ما و لعنت است یسی ٹیکوں کا طریقہ اور اُن کی سنت ہے۔جلد بازی کا رستہ لعنت کی راہ ہے