دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 242 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 242

ہے عنایات خدا کار است خام پخته داند این سخن را و السلام خدا کی مہربانی کے بغیر کام ادھورا رہتا ہے عقلمند ہی اس بات کو جانتا ہے۔ والسلام ا سراج منیر، آخری صفحات مطبوعہ ۱۸۹۷م من نزد مرا از شهریاری که هستم بر درے امیدواری میرے سامنے کسی بادشاہ کا ذکر نہ کر کیونکہ میں تو ایک دروازہ پر امیدوار پڑا ہوں داد نه یک جهان بخش جهان است بدی و خالق دیره در دگاری وہ صدا جو دنیا کو زندگی بخشنے والا ہے اور ہوئی اور خانی اور پر مددگار ہے کردیم و قادر و مشکل کشائے رحیم ومحن و حاجت ہمارے کریم و قادر ہے اور اور مشکل کرتا ہے رحیم ہے ۔ محسن ہے اور حاجت ہوا۔ روا ہے تمام پرورش زیر انکه گویند بر آید در جہاں کارے کارے میں اس کے دروازہ پر پڑا ہوں کیونکہ مش مشہور ہے کہ دنیا میں ایک کام میں سے دوسرا کام مکمل ہوتا ہے۔ چه ای با به وفاطمه آیدم یا د فراموشم نشود بر خویش و یاری جب وہ یار وفادار مجھے یاد آتا ہے تو ہر رشتہ دار اور دوست مجھے بھول جاتا ہے بغیر او جہاں بندم دل خویش کو بے رویش نے آید قرار ے میں اسے چھوڑ کر کسی اور سے کسی طرح دل لگاؤں کے بغیر اس کے مجھے چین نہیں آتا : ور دلم در سینه ریشم محمد بند د ستیش بدامان نگاری دل کمر سے تھی سینے میں نہ ڈھو بار کریم نے اسے ایک محجوب کے دان سے سے باندھ باندھا دیا ہے