دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 241 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 241

۲۴۱ می زند در دانش دست ارجیوں کی فرانت شد دلم اسے باریوں اور یہ کہ کر دیوانہ وار اس کے دامن کو پکڑ لیتا ہے کہ اسے دوست میرا دل تیری جدائی میں خون ہو گیا ان میں صدق در بود اندر دے گل مجید جائے بیچوں بیٹے اگر ایسا صدیق کسی کے دل میں ہو تو وہ بلبل کی طرح پھول کو اپنا اٹھ کا نا بنا لیتا ہے۔ گر تو انتی با دو صد در دو غیر کسی سے خیزد که گرد و تنگیر اگر تو دو سوچیوں اور آموں کے ساتھ گر پڑے تو پھر ضرور کوئی مدد کے لیے کھڑا ہو جاتا ہے۔ تافتن رو از خورد تا بال که من خود بر آرم روشنی از خوشتین یہ خیال کر کے روشن سورج سے منہ پھیر لینا کہ میں اپنے اندر ہے آ اسے آپ ہی روشنی روشنی پیدا کر لوں گا۔ این همین آثار نا کامی بود هیچ شتوت نخوت و خامی بود یہی تو نامرادی کے آثار ہوا کرتے ہیں ۔ بد بختی کی جڑ تکبر اور خامی ہے عالم راکو کردوست این خیال سرنگوں انگند در چاه مضلال اس شمال نے ایک جہان کی اندھا کر رکھا ہے اور اسے گمراہی کے کوئیں میں سر کے بل ڈال دیا ۔ ہے سوئے آنے تش را باید شتافت بر که جهت از صدق دل خرمات هر آخر پیاسے کو پانی کی طرف دوڑانا چاہتے ہیں نے صدق دل سے لاش کی اس نے آخر کار مقصود کو پایا این خرد مند کہ جو یہ کوئے یار آبرو ریز و ز بر روئے یارا ور آدمی اعقلمند ہے جو یار کی گلی ڈھونڈتا ہے اور رہ کے یار کی خاطر اپنی عامتہ ڈرتا ہے خاک گرد تا هوابر بایرش گرم شود تا کس رہے نجم برش وہ خاک بن جاتا ہے کہ مولا سے لے اڑے اور فنا ہو جاتا ہے تا کہ کوئی اُسے راستہ دکھائے 4 محمدا