دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 240
هرک سالی سے نہال شد انه نظیر از خبر دارے میں پھر سد خبر میں کس کا دوست اس کی نظر سے غایب ہو جاتا ہے تو وہ کسی وقت سے اس کی خبر پوچھتا ہے ۔ ر کر جریان نگارے سے بود کے بیک جائیں تو اس سے بود اور جو کسی معشوق کا طلب گار ہوتا ہے تو اسے ایک ہی جگہ پر کب چین آتا ہے ے درو هر سوئے دیوانہ وار تا گھر آیا نظر آں روتے یا را وہ ہر طرف دیوانہ وار دوڑتا ہے تاکہ شاید یار کا چہرہ کہیں نظر آجاتے هر را عشق دلبری در جان اوست دل بندش اونترال مجرد دست جس کی جان میں دلبر کا عشق سما گیا ہے تو دوست کے فراق میں اس کا دل ہاتھ سے مشکل نکل جاتا ہے۔ عاشقان را مبرد آرامے کجا تو یہ اندرونے ولا رامے کجا عاشقوں کے لیے میر اور آرام کہاں ! اور معشوق کے چرے سے روگردانی کہاں ؟ ھر کیا عشق رخ یاری بود روز و شب با آن پخش کارے بود جیسے دوست کے منہ سے محبت ہوتی ہے اسے توہی بات اس کے چہرہ کا ہی تھال رہتا ہے۔ فرقش گر اتفاقے اوفتد دوربین و جانش فراقے اوفتند اگر اتفاقا اس سے جدائی ہو جائے تو اس کے جان و تن میں جدائی ہو جاتی ہے ایک زانتے زندگی ہے ہوئے یار نے کند بروس پروفیاں روز یر کے بغیر اس کی زندگی کا ایک لمحہ بھی اس پر زندگانی کو تلخ کر دیتا ہے باز چون میدہ جمال و روئے اُوا سے دور چون بجو اسے ہوئے اور پھر جب وہ اس کا حس اور اس کا چپہ دیکھتا ہے تو بے حواسوں کی طرح اس کی طرف دوڑتا ہے र