دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 237 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 237

۲۳۷ هر که ترک خود کند یا به شهدا چیست ولی در نفس نوشتن بهداد ہو نخودی کو ترک کرتا ہے وہ خدا کو پالیتا ہے وصل کیا چیز ہے اپنے نفس سے الگ ہو جاتا ایک ترین نقش کے آسان بود مردان و از خود شدن یکسان بود لیکن نفس کو مار تا آسان کام نہیں کرتا اور خودی کا چھوڑتا ہوار ہے تا نه آن یا دے اد وزوبر جان با باید ذره امکان ما ق کو رباید جب پیک ہماری جان پر وہ ہوا وہ پہلے جو ہماری بستی کے ذمہ تک کو اڑا لے جائے کے دریں گرد و بنجارے ساختہ می توان دید آن شیخ آراستہ جب تک اس مصنوعی گردو غبار میں وہ محسین چہرہ کس طرح دیکھا جا سکتا ہے تانه فرمان خدائے خود شویم تا نه جور آشنائی خود شویم جب تک ہم اپنے خدا کچھ قربان نہ ہو ہو جائیں اور جب تک اپنے دوست کے اندر محمد نہ ہو جائیں تا نه باشیم از وجود خود بردن تا نه گرد و چه زمهرش اندرون جب تک ہم اپنے وجود سے علیحدہ نہ ہوجائیں اور جب تک بعینہ اس کی محبت سے بھر نہ جائے تانه بر ما مرگ آید صد ہزار کے جاتے تازہ بینیم از نگار جب کہ ہم پر لاکھوں تومیں وارد نہ ہوں تب تک نہیں اس محبوب کی طرف کنی زندگی کب ہو سکتی تان ریز در پرو بالی که دست سرخ این ره را پریدن شکل است۔ سرا جب تک اپنے اگلے بال و پر نہ جھاڑ ڈالے تب بھیک اس راہ کے پرندے کے لیے الٹنا مشکل ہے یسے آنکه وقتش شد بهاد یار آزرده دل اختیار شاد قسمت نے وہ شخص جس کا وقت برباد ہو گیا۔ بابر ناراض ہو گیا اور دشمنوں کا دل خوش ہوا 4