دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 224
사에서 نامراد از قوم خود بریده اند هر تکفیرم چها کوشیده اند قوم جب سے لوگوں نے مجھے اپنی قوم سے کاٹ دیا ہے جب انہوں نے میرے کا تھا۔ ان کی انہی کی ہیں انترا با پیش هر کس برده باند و از خیانت با سخن پر ورده اند ہر شخص کے روبرو افترا ہار جازمیاں کیں اور خیانت کے ساتھ خوب باتیں بنائیں تا مگر مفرد کے نال افترا سادہ لوحے کافر انگارد مرا تا کہ کوئی تو اس افترا کی وجہ سے پھیل جائے اور کھولا آدمی مجھے کافر سمجھنے لگے در رو با فتنه با انگشتند با نصاری رائے خود آمیختند انھوں نے بہار سے راستے میں کتنے کڑے کیے اور عیسائیوں کے ساتھ ساز بانہ کی کا فرم نرم خواند همه از جهل و عناد ایں چین کو رے بدنیا کسی مہاد جمل و عداوت کی وجہ سے مجھے کافر کیا۔ کاش دنیا میں اتنا اندھا کوئی نہ ہو۔ کی سےمجھے کافر نقل و نادانی تعصب با خوردو میں پوشید و در پیر شال برادر بخل او نا جانی نے تعصب کو بڑھایا اور کینہ بھڑک کر ان کی دونوں لکھیں نکال لے گیا ما مسلمانیم از فضل خدا مصطفه ما را امام و مقتدا ہم ندا کے فضل سے مسلمان ہیں ۔ ہیں ۔ محمد مصطفے ہمارے امام اور پیشوا ہیں اندریں دیں آمده از مادریم هم برین از دار دنیا بگذریم اہم برا ہوئے اور اسی دیں یا دنیا سے گزر جائیں کے اہ گے۔ ماں کے پیٹ سے ہی دین میں پیدا ہوئے اور اسی دیں ۔ اس کتاب می که قرآن نام دوست یاده عرفان ما از جام اوست خدا کی وہ کتاب میں کا نام قرآن ہے ہماری شراب معرفت اسی کام سے ہے