دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 212
۲۱۴ زهرو تریاق است در استتر آن کشا ہی سے دور جان دگر را ہم میں زہر اور تریاق دونوں بھنی ہیں۔وہ قتل کرتا ہے اور یہ دوسری زندگی بخشا تیر را دیدی نه دیدی چار ماش انکر بوده انازل کفاره اش تو نے زمبر کو تو دیکھ لیا مگر اس کا علاج نہ دیکھا ہو ہمیشہ سے اس کا کفارہ ہے جل دو تثبیت داده اند سے بے خیبر پس چرا پوشی کے وقت نظر سے ہے شہر جب تجھے دو آنکھیں دی گئی ہیں تو دیکھتے وقت کو ایک کو کیوں ڈھانک لیتا ہے۔یک نظریں ہوئے ہیں دنیائے دوں جوں مگر دی از پئے آں سرنگوں این چل گردی اس ور اس اصیل دنیا پر نظر ڈال کہ کس طرح تو فیس کے پیچھے سرگرداں پھر رہا ہے۔آنچه داری از متاع و منزلت بے مشقت با نگشته حاصلت جو کچھ بھی سامان اور عورت کچھ سامان اور سرعت در سوت تیرے پاس ہے وہ تجھے بغیر محنت کے حاصل نہیں ہوتی بایدت تا مدتے پہلے دراز ناخوری از کشت خود نا نے فرانہ ایک ہے عرصہ کی کوشش درکار ہے تاکہ تو اپنی کھیتی سے روٹی کھائے چول ہمیں قانون قدرت او قتاد پس نہیں یاد آر در کشت معادل جب قانون قدرت ریسا ہی واقع ہوا ہے پیس آخرت کی کھیتی کے لیے بھی یہی بات یا دیکھ خوب گفت اول قادر رب الورى ليسَ لِلإِنسَانِ إِلا ما سو رب العالمین قادر خلاتے کیا غریب فرمایا ہے کہ انسان کو اپنی کوشش کا بدلہ ضرور تھا ہے ہم دین نیست گرتویشتوی یادگاره مولوی در مثنوی اگر تو سنے تو اسی مطلب کا مضمون وہ بھی ہے۔ہوا ثنوی میں سواری منوی کی یاد گار ہے