دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 210
1 کے زما یکی بر آید اس عراب اور مزین مشرقی صدق و صواب دوہ کا اندھیرے سے کہ نکل سکتا ہے جو اس صدق و صواب کے طوح کے مقام سے بھاگتا ہے۔ انکہ اور اظلمتی گیرد براہ میتش میتش چون روئے احمد مهر و ماه 106 وہ شخص جسے تاریکی گھیر لے اسکے لیے اللہ کے چر کی طرح اور کوئی چاند سورج نہیں ہے تابیش بحر معانی سے مشود در زمینی آسمانی می شود اُس کا پیرو معرفت کا ایک سمندر بن جاتا ہے اور زمینی سے آسمانی ہو جاتا ہے۔ هر که در ماه محمد زد قدم انبیا را شد شمیل آل محترم جس کے محمد کے طریقہ پر قدم مارا وہ قابل موت شخص نبیوں کا میل بن جاتا ہے۔ تو عجب داری ز فونز میں مقام پانے بند نفس گشته صبح و شام و شام تو اس درجہ کی کامیابی پر تعجب کرتا ہے کیونکہ تو ہر وقت اپنے نفس کا غلام ہے دیکه فخر و ناز بر میلی تر است بنده عاجزه بچشم تو خداست تو اسے وہ شخص کہ تجھے مینی پر نمز اور تاز ہے اور خدا کا ایک عاجز بندہ تیری نظر میں خدا ہے شد فراموشت خداوند سے و دود پیش عیسی اوفتادی در سجود تجھے خدائے شفیق بھول گیا اور ویٹی کے آگے سجدہ میں گر گیا من نداغر اب دی فعل است و ڈ کا بنده را ساختن رب السما نداران و میں نہیں سمجھ سکتا کہ یہ کیسی عقل اور ذہانت ہے کہ ایک بندہ کو ندا بنایا جائے۔ نانیاں راسته با او کجا کیا ان از صفات او کمال است و و بقا فائی انسانوں کو خدا سے کیا نسبت اس کی صفت تو کامل ہونا اور ہمیشہ رہنا ہے