دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 199
۱۹۹ ان کی المانین را نقد های حق تست و تا کن بین از باد سے مستجاب یوار خا کی قدروں کے پیٹ کا انکار ذکریات ختم کر اور ہم سے دعائے مستجاب دیکھ لے د منقه یکی از برکات الله صفحه با مطبوعه ۱۲۱۸۹۳ یکے دین ای پی خویش و ی نیت کر کے دکار خود بادین احمکار نیست دین او یکیں ہوگیا کوئی اس کا غم خوار نہیں شخص اپنے اپنے کام میں مصروف نها النت صد الماری کا میلاب مہارت لاکھوں انسانوں کو بہا کر لے گیا اس آنکھ پر افسوس جو اب بھی بہی نہیں ہوئی اسے خداوندان نیست اینچنین نقلت و چمران مت چران خود خوردار از خوابی با خود بر میں این بیدار است A اسے دولت مندور اس قدر نقلت کیوں ہے تم ہم ہے تم کسی تمہید سے بے ہوش ہو یا دین کی قسمت ہو گتی ہے انے سلمانان معلم ایک نظر بی حالی میں آنے سے منیم بلا الحاجات المدار میست ے سالانہ اقدا کے لیے ان کی طرف ایک نظر تو دیکھ نہیں ہو جا میں دیکھ رہا ہوں ان کے اقتدار کی حاجت نہیں استش افتاد ست درختش بین های با دیدنش از هر کار مردم دیدار است ے وال یہ اٹھو اس کے کپڑوں میں آگ لگ گئی ہے دین داروں کا یہ کام نہیں کیا سے دور سے دیکھتے ہیں رمان از هردوی درون دل من می بینید تمام این درد باجه عالیم اسرار نیست میر اول دین کی خاطر ہروقت خوان ہیں تڑپ رہا ہے ہمارے اس درد کا واقف خدا کے سوا اور کھائی نہیں ان های مدار هم که اند و خدا میرے ویری این ز ہو کتنا بیست ہی پایا ہے اس خدا کے سوا کیا جا سکتا ہے ہم ہار رہے ہیں لیکن ان کی بات نہیں رکھتے