دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 195 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 195

144 سل محراب ہو جہاں گرینا تے تو آی رستا ہے پر دکست را نمر دونوں جان کو ترک کرنا آسان ہے اورتیری رضائی جائے اسے میری پناہ مانے میرے عمدہ اے میرے مارا نہیں فصل بهار و موسم گل نایدم کار کاندر خیال روئے تومردم بیشتر و موسم گل ا ا ا ا ا ا ا ا اور میرے لیے پکاریں کہ کہیں ہوتا تیرے چہرے کے مال کی وجہ سے ایک چین میں ہوں خیال ہیوں حاجتے بو دبا دیپ دگر مرا می تربیت پذیر ذرت مهیمن سے کسی اور استاد کی ضرورت کیوں ہو۔میں تو اپنے خدا سے تربیت حاصل کیسے ہوئے تان کی عنایت اولی شد قریب من کام ندائے بار زہر کرنے و بر زنم اس کی دائی جنایت اس قدر میرے قریب گئی کہ دوست کی آواز میری ہر گلی کوچے سے آنے لگی يارب مرا بر قد مهم استوار دار مال روی خود میاد که عهد و شکستم اسے اب مجھے ہر قدم پر مضبوط رکھ اور اب کوئی دن نہ آئے کہ میں تیرا عود تو فعل و کوئے تو اگر سرشان سازند اول کیک لان تعشق زند منم ر تیرے کوچ میں عاشقوں کے سر تا ہے جائیں تو سب سے پسے ہوش کا دعوی کرے گاہ میں ہوں گا دو سلام مطریه و منو ویستی خود کم با الا ان اس بار آورد سے ان کال کے قیدی بنی ہنی پرنتر تک کی عجیب اسان تیاری کرنا کے بہت سے آدمی کایا کرتاہے غیرام گونی باشد نه در کوئے حق کو امید آسمان و بازی آن یار آورد کی ایک ایک کر گرو مل نہیں جو آسان سے آتا ہے وہی اس لیہ کے اسرار ہمراہ لاتا ہے 1۔