دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 181
JAI بر را است در تار ہوئے کو جواب سے برا ہونے پر مان مریم نام میر اول ، جنہیں ہے جیسے امتحضر کتاب میں دیکھا ہے اس چھر سے اور سر پر پیری جان مصر اور منہ قربان ہوں ال ایسے ہی ہیں او این ایس سی امری شد از دم کو بے شمار می با او ان ہی میں لاکھوں دوست رکھتا ہوں اور اس کے دم سے بے شمار مسیح ناصری پیدا ہوئے تبار است کشور آفتاب شرق و غرب بادشاه لاک علت ایجاد هر خاکسار رکات کشور کا شام اور مشرق و مغرب کا انتخاب ہے دین ودنیا کا با دشاہ اور ہر خاکسارہ کی پناہ ہے۔ اران آن دل که در راه و از تمام ایک بات آن برای دیدار سران سهام امیاب ہو گیا مول دوست ہی کے اتے ان کو ا ر ا ا و ہمت ہے اور اس وار سے قتل کرتا ہے یانی اشیای تاریک شد از شرک کافر وقت آن آمد ایمانی اور خوشی دارد ے ہی اتار کر اور شرک سے دنیا اندھیر ہوگئی اب وقت آگیا ہے کہ تم اپنا سوریا کی کانشہ چہرہ ظاہر کرے یم انوار در دو روئے تو اسے دلبرم است عشق رکھتے تو بینیم دل پر ہو شیار است ہوشیار اے میرے دل میں اتار لی تیری نعت میں دیکھتا ہوں اور پر کمند دل کو تیرے عشق میں سرشار پاتا ہوں ایل ال مند قدرت عارفان دانند حال در پشم شتران نهال و نصف داستان م جبال تیری قدر پہچانتے ہیں اور اختیار مال جانتے ہیں کی جنگاوٹوں کی آنکھ تیرا حال جانتے ہیں لیکن جنگاوروں کی انکھ سے دوپہر کا سوچ چھپا ہوا ہے ر کے مرد کے باب سے اور یہاں سی خدائے ہوئے تو اسے سنان العنا شخص دنیا میں کوئی نہ کوئی محبوب رکھتا ہے نگر میں تو تیرا فلائی ہوں اسے پھول سے رخساروں والے عجوب اول اندر نے نبوت است اما و جو د ورشین کدوم دورت اختیار سارا جہاں چھوڑ کر یں نے تیرے ہیں چہرے سے دل لگایا ہے اور اپنے وجود پر تیرے وہ ان کو نہ بیچ دیا ہے