دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 180 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 180

In ہر کے اندر کالو خو دوا لے نے کند این کار نے ہر بار تو اسے پانچ پا اللہ مجھے Un اد میں اپنے لیے دعا تو ہے گرمی سے میر سے آنا تیری آل واصلاد کے لیے دعا مانگتا یابی الشہدائے پر سوئے تو ام وقت را وتو کنم گریان و نام می تراری ے میں اس بات سے با بال پر نا ہوں اگر ھے ایک کو باہمی بھی لیں تومیری با ایں سب کو قربان کردن اتمام دین دیتا در بخشتی بیست کیمیائے سروے کبیر پر جان نگار اصل میں تیری اتباع اور تیرا عشق ہر دل کے لیے کیا اور ہر زخمی جان کے لیے اکسیر ہے دل اگر نام میت شہرت چه چیز سالی در نقارہ تو گرد و جاں کیا آید یار ارگیری محبت میں خون نہیں وہ دل ہی ہیں اور ہو جا تجھ پر قربان نہ ہو وہ جان کس کام کی دول می ترسد مهر تو را از مروت هم بایداری با بین خوش میرو نا پائی وام مولانہ تیری محبت میں میرا دل موت سے بھی نہیں ڈر تاثیر استعمال دیکھ ک میں لیب کے نیچے خوش خوش برا ہوں ابان است یا رحمته اعتر آمدیم که چون ابر در توصد هزار امید دارم سے الہ کی رحمت ہم تیرے رحم کے اید را می توں ہے کہ تم جیسے لاکھوں تیرے در کے میدان میں انی الہ تار ہوئے محبوب تو ام وقت باہت کو ام این کرک برش است دل تامین اور رسول پاک را نموده اند نشتق اور دل ہے جوشد و آب از ایشان جہ سے مجھے پھول پاک کانور کھایا گیات سے اس کی میرے دل میں ہوں جوش مارتا ہے جیسے آبشار میں پانی انش عشق از میمن کچور تے سے جہد کیک مروت سے ہمدان نام دگر دوجار میر سول سے اس کے پیش کی اگر ماں کی طرح کی ہے اسے نام طبع رفیقی میر نے اس پاس سے ہٹ جاؤ