دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 179 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 179

149 الک کے جید حدیث پاک از زیر دو مرد آن در از خود دهان شود۔ و بے انتظار ایک تو تیری پاک ہیں زید و کمر کے پاس جا کر تلاش کرتا ہے اور دوسرا طلا توسط تیر سے منہ سے مال کو سنتا ہے ان کی شخصی که نشده از شیمیات زیرک آن مردیکه کرد است ابتاعت اختیار قی زندہ ہے جوتیرے چین سے پانی کے گھونٹ پیا ہے اور وہی انسان عقلمند ہے میں نے تیری پردی اختیار کی ماریاں انتہا کے صرف علم رحمت صاد قال رانتہائی صدقی بر شفقت قرار مانوں کی سرقت کا آخری فقط تیر سے رخ کا علم ہے اور را کانال کے صدق کا مت تیرے عشق پڑتا ہے قدم رہا ہے ہے تو ہر گرو دولت عرفان تھے یا بد کسے گرم مرد در یافت با وجود بے شمار تیرے بغیر کوئی عرفان کی دولت کو نہیں پا سکتا۔ اگر چہ وہ ریاضتیں اور جد و جہد کرتا مر بھی جائے یر را مال و بی عشق دی الهی است فال از رویت نہیں ہوئے لیکی و نهار تیرے اس کے معاصرت اپنے اعمال پر بھروسہ کرتا ہے تونی سے ہو تجھ سے غافل ہے۔ وہ ہر گز نیکی کا منہ نہ دیکھے گا ور کے حامل شہر سے پیش ہوئے تو امکان باشد سالکان را حاصل از روزگار تیرے پیش کی وجہ سے ایام میں دوار حاصل ہو جاتا ہے ہو مالکوں کو ایک لمبے زمانے میں حاصل نہیں ہوتا ا ہائے عالم برو پیونی اش است ان کی بر می بینید و برودت آشکار ون کی جیب چنوں میں سے ہر ین کی دلینا اور نیب سے ایسی ہر چیز کی درمیاں میں تیری ذات میں پاتا ہوں وشتر ز دوران عشق تو با تدریج دور و ترانه ست صبح تو نباشد هیچ کار تیرے عشق کے زمانہ سے اور کوئی خامنہ زیادہ اچھا نہیں اور کہ کی نام تیری مدح دینا سے زیادہ بہتر نہیں مشکورہ بروم بخوبی ہائے بے پایان تو جاں گدازم بر تو گر دیگر خدمتگذار و بھی تری با اتار ی کا تجربہ سے اس لیے ایسے کیسے ان میں ہمیں تجھ پر جان ادا کرنے کو تیار ہیں