دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 174
14 میں تو یہ دیکھ دین ایم که در ارتقدیر و پاک سے فواد رانا ان قات اسلام آن شوک شود به ہو رہاہوں کہ مادر و در مس خدا کا نشایہ ہے کہ اسلام کی وہ قوت اور وہ شوکت پھر پیدا ہو جا وہ جائے کر یا کوم بر م کو کن رکے کو نامردین است بالائے اوگراں گر گیے نت ور پیدا ے خوان کریم سیکڑوں مہربانوں اس شخص پر جو ان کا کیا ہے اگر بھی آفت آئے تو اس کی میت کو کیا چنان ش عالم ادرا اسے خدا سے قادر مطلق در سرکارو بار و حال اور جنت شود پیدا اے خداوند قادر مطلق اُسے ایسا خوش رکھ کہ اس کی حالت اور سب کا روبار میں ایک جیت پیدا ہو جائے دریج دور د قوم من برائے من نے شنود زیر در میدیمر نیاش مگر عبرت شود پیدا روس قوم میں بھی دکارکونہیں سنی میں وہ فرقہ سے سے محبت کر راہوں کاش اس کو جرت ہو مرا اور نم آید که چشم خویش بکشانند مگر تیرا خون و قت و خشیت شود بیان مجھ میں نہیں آتا کہ لوگ بھی پنی انکھیں کھویں کو اور اس وقت جس کی پاکتانی نایت استان میں پیدا ہوتا مراد جمال و کتاب و نیر از کافران فهمند نمیدانم چرا از گوری نفرت شود دید یہ مجھے دجال چھوٹا اور کافروں سے بدتر سمجھتے ہیں ہمیں نہیں جانتا کہ خدا کے نور سے انہیں کیوں نفرت ہوگی عجب کردید سے نا آشتابان خاقان از دین که از من چشمه حیوان دیرین ظلمت شود بیاد را تا تاریکی میں تعجب ہے کہ اس امیر کی ضد کی طرف سے ایک شہر حیات پیدا ہو گی ہے چل انسان تعجب با کند در فکر این معنی که خواب آلودگان را رافع غفلت شود بیاد آدمی بیمات سورچی کرکیوں حیران ہو کہ نیند کے متعاملوں کے لیے ایک خافت کا دور کرتے ہوا والا پیدا ہوے فراموشت نداری قوم احادیث نبی الله که نزد ہر صدی یک مصلح است شود برای ے میری قوم اور کال کی پیش کی ہی ہوں گی کہ راہی کے رات کے لیے ایک مل ہی ہو کرنا کے ینه کمالات، اسلام به تمیل مطبوعه ۹۳ ۲۱۸