دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 156 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 156

ناتوانی جنگ از ترین جان ومال اذرب العش بالی نعمت صد آفری جہاں ملک تجھ سے ہو سکتا ہو جان ومال کے کتا ہو جانی دال کے ساتھ دیں کے لیے کوشش کرتاکہ خداوند بارش کی طرف تھے شنود کی نعمت می حامل یان نایت کن کی مے کد رایان نیست اول مدادی یو نے پا را کنت این گوین ا نہ کرو وتر ساینا میں ہے اپنے عمل سے ثابت کرجب تو نے پوست کودل دریا از کسان کارشتہ بھی اختیارک باد یا میک ایں دیں ربع سرکش بود عالمی اوار رانده اند و د یوه مین داینامیکی مسیج ای او بی بی بی دی اس ال ایات نہیں کر بیل تربیت از نور علم پایان خود میزد ز تو جا در چین برین باه چرخ کی وجہ سے اس نے نین میں بی تربیت کا سایہ پھیلا کھا تھا اور وہ جان کی وجہ سے آسمان پر اس کا قدم تھا ان منانے پہنتا آنکه براین المحول از نقابت می کن که به این بی نتین اب ایسا زمانہ آگیا ہے کہ ہر امتی ہے وقوفی سے اس دین متین کی تکذیب کرتا ہے تران جہاں نہیں برا برده است در باران برای کشتند ید الماکرین بالانوین بین لاکھوں بیوقون دین سے باہر نکل گئے۔اور لاکھیل جاہل مکاروں کا شکار بن گئے م بانی برادربار میں رہ اوفتاد کرنے میں بہت شکل نمیت بغیر ت ہیں مسلمانوں پر ساری ذات میں چھے سے پڑی کہ دین کے مال میں ان کی بہت نے ان کی غیرت کا ساتھ نہیں دیا گرگ و عالمی از راه دین مصطفے اندر غیرت نے چند ہم مثل نہیں و اگر ایک جھان ملنے کے دین کی راہ سے پھر جائے تو جتنی بھی بھی وہ غیرت سے حرکت نہیں کرتے ایاں فرق ہر مورد دنیائے ہوں ملائیں امت ادریا و سوان نہیں فریح ہوتا رہتا ہے۔