دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 157 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 157

184 کو ملے فنی ستایشان ستان سیکا است از ساسی ملت ایشان نگین خابات آشنا یگانه از کر تے بی سی نفرت از ربات میں ایسے پرستان اذکر بوٹی کرتا نہیں شراب کے ربیانگر بہایت سے بے گا نہ ارباب دین سے نفرت اور شہر یجروں سے صحبت ہے گوایا اس کا اعلام داشت اون میداند با این قوم صدق الامین و نے ان سے بھی لیاہواہے سو سکتا ہے اس کام کے لایا ہوں اور تیاری کے ازمان دولت و بالا خیال درگذشت خود را اعمل شمال اور ایک سے نہیں ان کے دوست و جمال کا زمانہ تو گزر گیا۔اب ان کے عمال کی نحوست ایسے دن سے آئی رین پری آماری امت از وی آید باید عمر دین و پایین پہلے جو ترقی ہوئی تھی ودین پروری کے اس سے ہوئی تھی پھر بھی جب ہوگی یعنی اس راہ سے ہو گئی الی با کی ایران و ایت دان کے ایم این روند دیامر میں بار آیہ تو وقتی اسے خدا پھر کب تیری طرف سے مدد کا وقت آئے گا اور ہم پھر وہ مبارک دان اور سال کی تھیں گے۔این دو ورودی اهم متر جان باگذاشت شریت اعدائے ملت تلقت انصار دیں رین حد کے متعلق ان دو فکروں نے میری جان کے ستر گنگا و با دعوائے ملت کی کثرت اور نصاب دین کی قلت از در آور را آن نصر با بسیار یا رابه ر یارب زین بنام آتشین ا اور یہ ہی اپنی امت کی بارش ہیں اور نہ اسے میرے اب اس آستیں میر سے مجھ کو اٹھائے ابند اور بری از مشرق رحمت بردار گران ایم کی رکن من کہتے ہیں رفتن اسے خدا رحمت کے مطلع سے ہدایت کاند طلوع کریو چکتے ہوئے نشان و کھلا کر گمراہوں کی انکھیں نکال کر مزاحمت