دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 150
۱۵۰ چوں رنگ ہی رود کسی راز عشق یارش زیکر مر ینگ خویش آمیزد جب عشق کی وجہ سے کسی کی خودی کا رنگ نا رہتا ہے تو بار اپنی دربانی سے اس پر انچانگ چڑھا دیتا ہے۔ اسرمه چشم آمرید صفحه ۲۰ سال می روم سینه می بایستی از غیر بار دل ہے باید چه از یاد نگر یار کے سوا ہر چیز سے سینہ خالی ہونا چاہیے اور دل محبوب کی یاد سے بھرا نہ چنا چاہئیے جال ہے باید برا و او دا سر ہے باید پائے او تشار جان موس کی راہ میں قربان ہوتی چاہیے اور کرام اس کے قدموں میں نثار ہونا چاہیئے سیدانی چیست وین عاشقان کو کمت گریشنوی عشاق وار کیا تجھے معلوم ہے کہ مشقوں کا دین کیا ہوتا ہے میں مجھے بتاتا ہوں اگر تو عاشقوں کی طرح کتنے اد عالم اد همه عالم فرو بستن نظر مور دل نشستن ز غیر دو نندار ہے کہ سارے جہاں کی طرف سے آنے بند کر لیتا اور دوست کے سوا ہر چیز سے دل کی تختی کو دھوڈالتا سرمه چشم آمرید صفحه ۲۱۰ ) ترک خوبے سے کنانہ خوب تر عشق را درمان بود عشق دگر اد ان سے کمی کا دیا ہے ان کا ملا اور رات کرتا ہے زیاد میں اپنے سے کم حسین کو چھڑا دیتا ہے ایک عشق کا علاج دوسرا عشق ہوا کرتا ہے کیا شیر با شیر سے نماید دور تن سے تواں آہن یہ آئین کو فتن تیر ہی شہیر سے نور آن ، ہو سکتا ہے لوہے کو لوہے سے ہی کوٹ سکتے ہیں