دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 149
۱۴۹ حمد بیست که ترک خویش و پویند کردیم دو سے جزانه تو دشوار نہ ایک خرگوشی کریم نے سردیوں اور استعمال سے میں نقل کیا میرے منیر کی اور گانا بھی مشکل ہے KAAY اتری چشم آکر یہ تھی - ۲۱۸۸۶ جنس نام و زنگ عرت داره دانان مقیم یاد آمیزد گر با ما به خاک آمیختیم نگ مویت کرتے اپنے دین سے پھینک دی اور ہم خاک میں ا گئے مں کہ یار ہم سے مل جائے نام اور ہم نے " سے دل بیداد غیر ارکت رجال دور ہے انتقیم اپنے وصل کرے جیل با انگیر ول اتھ سے دے یا وہ میں اس راستے ہیں یا ایک یو ایس او کے میل کے لے ہم نے طرح طرح کی تدبیری میں ملا آئینہ کمالات ! در تیم آمریه متحده و مطبوعه ۶۱۸۸۷ سے نالاں دا اکتا ہیں سرائے نام دنیا ئے دول نماند و تا ن کی عوام ے فاطمی یہ سرائے فانی کس سے خانہیں کرتی ہی دنیل دنیا کسی کے ساتھ ہمیشہ رہی نہ رہے گی می گشتیم اگر به صفحه ۱۹ مسی و له و در موارد آنجا کہ مہینے ٹیک مے ریزد بر پرده که بود از میان برخیزد جمل محبت نمک پاشی کرتی ہے۔وہاں ہو بھی پردہ درمیان میں ہوتا ہے اُٹھ جاتا ہے این نین کی که صد تراش من است خاموش نشود و مشتق منشور انگیزند یہ ذلیس نفس میں کے لاکھوں منہ میں جب عشق ہوش میں آتا ہے تو خاموش ہو جاتا ہے