دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 147 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 147

۱۴۷ نوده اور این طرفه که بینچ بیچ کر نہ گردو یا آنکہ عطائے ثبت بسیار پھر لطف یہ ہے کہ ران نعمتوں میں کوئی کمی نہیں پڑتی۔ باوجود یکہ تیری بنشیں ہے ۔ جان ہیں حسن تو غنی کند نه بهر خمین مهر تو بخود کشند نه هر بار بیرامن ہر جس سے بے نیاز کر دیا ہے اور تیری بہت ہر دوست کو چھڑا کر اپنی طرف کھینچ لیتی ہے حسن نمکینت اور نہ بو دے از حسن نہ بود سے بیچ انار نہ بودے اگر تیرا نکلین حسن نہ ہوتا ۔ تو دنیا میں حسن کا نام و نشان نہ ہوتا شودگی ز تو رات روتے خوبان رنگ از تو گرفت گل به گلزار محبوبوں کے چہروں نے تجھ سے روتی پانی پھول نے چمن میں تجھ سے رنگ حاصل کیا سیمیں وقتاں کہ سیب دارند آمد نہ ہوں بلند اشجار حسینوں کے پاس جو سیب جیسے بخار ہیں ۔ یہ انہی اونچے درختوں سے آئے ہیں ہیں ہر دو ازاں دیار آیند گیسوئے بنان و شک تا تار یہ دونوں بھی اسی ملک سے آتے ہیں ۔ نے ہیں ۔ حسینوں کے گیسو اور تاتار کا منگ منکر از بهر نمایش جمالت بیم همه چیز آئینه دار تیرے جمالی کی نمایش کے لئے ہمیں ہر چیز کو آئینہ سمجھتا ہوں هر برگ صحیفہ ہدایت ہر بیم ہر و عرض شمع بردار ره ہر پتا چایت کی ایک کتاب ہے۔ ہر ذات و صفت صفت تجھے دکھانے کے لئے تعلیمی یا ہر نفس تتو رہے نماید ہر حال بد ہر علما کے این کار اہر جان ہر نفس تیرا راستہ دکھاتا ہے اور ہر کمان بھی اس بات کی ہی آواز دی ہے