دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 141
کس پر تانه نور احمد آید چارہ گرا کسی نمے گیرد به تاریکی بدر جب تک احمد کا نور چارہ گر نہ ہو گات ایک کوئی اندھیرے سے باہر نہیں نکل سکتا از طفیل اوست تویہ ہوتی تاہم ہر مرسل بنام او بیلی ہرنی کا اور اسی کے طفیل سے ہے اور ہر رسول کا نام اس کے نام کی وجہ سے روشن ہے اس کتا ہے بچو خور دادش خدا کو رخش روشن شد این ظلمت سرا دانے ایسے سورج کی طرح کی ایسی کتاب بھی کی کہ اس کے روئے، ریشن سے یہ اندھیرا جان چمک اٹھا بست فرقان طیب و طاہر رنجر از نشانها می دید ہر دم تمر فرقان ایک پاک اور طیب درخت ہے اور ہر زبان میں نشانات کے پھل دیتا ہے مدنشان راستی در وے پدید نے جو دین تو بنائیش بو شنید بھائی کے سینکڑوں نشان اس میں ظاہر ہیں تیرے دین کی طرح اس کی یاد شی یہ نہیں ہے نہ آن تور چھ نہ اعجاز است آن عالی کلام تور یزدانی درد رختند تمامه ده بزرگ کتاب معجزات سے بھری ہوئی ہے اس میں خدائی تور پورا پورا چکھنا از خدائی با نموده کار را : بر دریدہ پردہ کفار را اس نے خدائی فاقتوں کے ساتھ کام کیا ہے اور کفار کے پردے پھاڑ کر دکھائے ہیں آفتاب است کن یوں آفتاب گونه کوری بیانگر شتاب کند گر وہ خود آفتاب ہے اور دوستوں کوبھی کتاب کی ملی بنادیتا ہے اگر ت ا د ا نہیں ہے تو جلدی اور دیکھو اسے موقر گریانی سوئے اواز د فارخت اگمنی در کرئے ما کتاب اگر ہماری ان کے دوران داری کے ان ہارے کو ہی ایسے ڈال دے المرا